امریکی ایوانِ نمائندگان نے سالانہ دفاعی بل سے اس شق کو ہٹانے کی ایک ترمیم کو مسترد کر دیا ہے جس کا مقصد امریکی اور اسرائیلی فوجی قوتوں کو ایک بے مثال حد تک یکجا کرنا ہے۔
ڈیموکریٹک نمائندے رو کھنہ نے بل سے 'دفعہ 224' کو خارج کرنے کے لیے یہ ترمیم پیش کی تھی اور انہوں نے اسرائیلی اور امریکی طاقت کے حجم کے درمیان موجود واضح فرق کو نمایاں کیا۔
جمعرات کے روز ایوان کے فلور پر بات کرتے ہوئے رو کھنہ نے کہا، "امریکی عوام (اسرائیلی) وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے اس تکبر اور گستاخی سے تنگ آ چکے ہیں جس کے تحت وہ امریکہ کو یہ بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے پورے ملک کی جی ڈی پی میرے انتخابی حلقے کے ایک واحد قصبے سے بھی کم ہے، لیکن پھر بھی نیتن یاہو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امریکی عوام کو بتا سکتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ اگر آپ کا یہ ماننا ہے کہ ہمیں اسرائیل کے لیے مزید کچھ کرنا چاہیے، تو آپ کو میری ترمیم کے خلاف ہونا چاہیے۔"
ہاؤس آرمز سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے بیرونی اثر و رسوخ کے حوالے سے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دعوے کہ یہ شق کسی طرح کسی غیر ملکی حکومت کو اختیارات سونپتی ہے، محض مضحکہ خیز ہیں۔
کمیٹی کے سینیئر رکن ایڈم اسمتھ نے نیتن یاہو کے ساتھ پیدا ہونے والی مایوسی کا اعتراف تو کیا لیکن اس شق کا دفاع کیا۔ ایڈم اسمتھ نے کہا، "میں اس نظریے سے سخت اختلاف کرتا ہوں کہ کانگریس محض نیتن یاہو کی خواہشات کے آگے جھک رہی ہے۔ یہ ہمارے اپنے فائدے میں ہے۔"
ووٹنگ کے دوران صرف ڈیموکریٹک نمائندے سارہ جیکبز نے رو کھنہ کا ساتھ دیا۔ یہ ترمیم زبانی رائے دہی کے ذریعے ناکام ہو گئی۔
رائے دہی سے قبل سارہ جیکبز نے کہا کہ اگر دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک پر امریکی اور بین الاقوامی قوانین کی بار بار خلاف ورزی کرنے، ہزاروں شہریوں کو ہلاک کرنے، اور ایک بھوکی آبادی تک خوراک اور ادویات پہنچنے سے روکنے کے معتبر الزامات ہوتے، تو ہم ان کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات کو گہرا اور مستقل طور پر وسیع کرنے کی طرف نہ بڑھ رہے ہوتے۔"
یہ اقدام، جسے مالی سال 2027 کے (NDAA) کے ' قانون 224' کے طور پر جانا جاتا ہے، امریکی وزیر دفاع کو پابند کرتا ہے کہ وہ ایک "ایگزیکٹو ایجنٹ" نامزد کریں جو امریکہ اور اسرائیل کے مابین تعاون کی کوششوں کو مربوط کرنے کا ذمہ دار ہو۔ ان کوششوں میں دوطرفہ دفاعی ٹیکنالوجی کی تحقیق، ترقی، جانچ، تشخیص، انضمام اور صنعتی تعاون شامل ہیں۔
یہ شق اسرائیلی صنعت کے ساتھ مشترکہ منصوبوں، لائسنسنگ کے معاہدوں، اور مشترکہ پیداواری مینوفیکچرنگ شراکت داری کے ساتھ ساتھ مشترکہ تربیتی مشقوں اور معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔
یہ ترمیم ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ پولز سروے ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ میں تل ابیب کی دو سالہ نسل کشی کے بعد اسرائیل کے لیے امریکی عوام کی ہمدردی تاریخی طور پر کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
اسرائیل غزہ میں اب تک تقریباً 73,000 فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جبکہ 173,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اصل سے کم بتائی جا رہی ہے اور حقیقی اموات کی تعداد 200,000 کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔
اسرائیل، جس نے غزہ کے نصف سے زیادہ حصے پر قبضہ کر رکھا ہے اور اپنے قبضے کو 70 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ رکھتا ہے، نے اس محصور علاقے کے بیشتر حصے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے اور وہاں کی تقریباً تمام آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔















