کینیڈا نے امریکی ممکنہ ایران پر حملے کے تناظر میں کہا ہے کہ خطّے میں جاری کشیدگی کے باعث اس نے اسرائیلی شہر تل ابیب سے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
گلوبل افیئرز کینیڈا نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا"گلوبل افیئرز کینیڈا نے تل ابیب سے غیر ضروری ملازمین اور ان کے تابعین کو عارضی طور پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے" اور اس نے مزید کہا کہ اس کا اسرائیل میں سفارت خانہ کھلا ہے۔
بیان میں کہا گیا:"لبنان اور فلسطین میں کینیڈین عملہ اور ان کے تابعین اپنی جگہ موجود ہیں، اور ہمارے مشنز معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں" بیان میں ایران میں موجود کینیڈینوں سے بھی کہا گیا کہ اگر آپ محفوظ طریقے سے جا سکتے ہیں توفوراً روانہ ہو جائیں۔"
یہ پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب اوٹاوا نے ایران کے بارے میں اپنی وارننگز میں شدت پیدا کر دی ہے۔ حکومت نے جمعہ کو جاری کیے گئے ایک تازہ سفری مشورے میں کینیڈین شہریوں سے کہا کہ وہ ایران کا سفر موقوف کریں اور جو لوگ وہاں موجود ہیں وہ اگر محفوظ ہو تو ملک چھوڑ دیں۔
حکومت نے خبردار کیا کہ ایرانی حکام نے "افراد، بشمول غیر ملکی اور دوہری شہریت رکھنے والوں، کو سیاسی یا سفارتی دباؤ ڈالنے کے لیے گرفتار اور/یا حراست میں لیا ہے"۔
اوٹاوا نے مزید کہا:"اگر آپ محفوظ طریقے سے جا سکتے ہیں تو آپ کو اب ایران چھوڑ دینا چاہیے" اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ بعض ایئرلائنز نے پروازیں معطل کر دی ہیں، تجارتی پروازیں اور زمینی راستے موجود ہیں۔
اس نے یہ بھی متنبہ کیا کہ "ایران میں قونصلری خدمات فراہم کرنے کی ہماری صلاحیت انتہائی محدود ہے اور کینیڈینوں سے کہا کہ وہ ایسے ہنگامی منصوبے بنائیں جو حکومت کی نکاسیِ وطن پر منحصر نہ ہوں"۔
گزشتہ چند ہفتوں میں امریکہ نے خطّے میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کی ہے اور ایران کو اس کے جوہری اور میزائل پروگرام ترک کرنے اور "اپنے علاقائی حلیفوں" پر قابو پانے کے لیے دباؤ دینے کے سلسلے میں فوجی کارروائی کے امکان کا اشارہ دیا ہے۔
تہران نے واشنگٹن اور اسرائیل پر مداخلت اور نظامِ حکومت تبدیل کرنے کے بہانے تراشنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی حملے، چاہے محدود ہی کیوں نہ ہو، کا جواب دے گا، جبکہ زور دیا ہے کہ جوہری پروگرام پر کسی پابندی کے بدلے پابندیوں میں نرمی ضروری ہے۔
جمعرات کو دونوں ملکوں نے جنیوا میں جوہری معاملات پر تیسرے دور کی گفتگو کی۔
گزشتہ ماہ جب جوہری سفارت کاری دوبارہ شروع ہوئی تو عمانی ثالثی میں دو دور بالواسطہ بات چیت ہو چکے ہیں، جو خطّی ممالک، بشمول ترکی، کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے بعد ممکن ہوئے۔











