دنیا
3 منٹ پڑھنے
کینیڈا نے تل ابیب سے عملے کو واپس بلا لیا اور اپنے شہریوں سے ایران سے نکلنے کا انتباہ
بیان میں ایران میں موجود کینیڈینوں سے بھی کہا گیا کہ اگر آپ محفوظ طریقے سے جا سکتے ہیں توفوراً روانہ ہو جائیں۔
کینیڈا نے تل ابیب سے عملے کو واپس بلا لیا اور اپنے شہریوں سے ایران سے نکلنے کا انتباہ
اوٹاوا کا کہنا ہے کہ جبکہ کچھ ایئر لائنز نے پروازیں معطل کر دی ہیں، تجارتی اور زمینی راستے سے نکلنے کے آپشنز دستیاب ہیں۔ / Others

کینیڈا نے امریکی ممکنہ ایران پر حملے کے تناظر میں کہا ہے کہ خطّے میں جاری کشیدگی کے باعث اس نے اسرائیلی شہر تل ابیب سے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

گلوبل افیئرز کینیڈا نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا"گلوبل افیئرز کینیڈا نے تل ابیب سے غیر ضروری ملازمین اور ان کے تابعین کو عارضی طور پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے" اور اس نے مزید کہا کہ اس کا اسرائیل میں سفارت خانہ کھلا ہے۔

بیان میں کہا گیا:"لبنان اور فلسطین میں کینیڈین عملہ اور ان کے تابعین اپنی جگہ موجود ہیں، اور ہمارے مشنز معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں" بیان میں ایران میں موجود کینیڈینوں سے بھی کہا گیا کہ اگر آپ محفوظ طریقے سے جا سکتے ہیں توفوراً روانہ ہو جائیں۔"

یہ پیش رفت ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب اوٹاوا نے ایران کے بارے میں اپنی وارننگز میں شدت پیدا کر دی ہے۔ حکومت نے جمعہ کو جاری کیے گئے ایک تازہ سفری مشورے میں کینیڈین شہریوں سے کہا کہ وہ ایران کا سفر موقوف کریں اور جو لوگ وہاں موجود ہیں وہ اگر محفوظ ہو تو ملک چھوڑ دیں۔

حکومت نے خبردار کیا کہ ایرانی حکام نے "افراد، بشمول غیر ملکی اور دوہری شہریت رکھنے والوں، کو سیاسی یا سفارتی دباؤ ڈالنے کے لیے گرفتار اور/یا حراست میں لیا ہے"۔

اوٹاوا نے مزید کہا:"اگر آپ محفوظ طریقے سے جا سکتے ہیں تو آپ کو اب ایران چھوڑ دینا چاہیے" اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اگرچہ بعض ایئرلائنز نے پروازیں معطل کر دی ہیں، تجارتی پروازیں اور زمینی راستے موجود ہیں۔

اس نے یہ بھی متنبہ کیا کہ "ایران میں قونصلری خدمات فراہم کرنے کی ہماری صلاحیت انتہائی محدود ہے اور کینیڈینوں سے کہا کہ وہ ایسے ہنگامی منصوبے بنائیں جو حکومت کی نکاسیِ وطن پر منحصر نہ ہوں"۔

گزشتہ چند ہفتوں میں امریکہ نے خطّے میں اپنی فوجی موجودگی مضبوط کی ہے اور ایران کو اس کے جوہری اور میزائل پروگرام ترک کرنے اور "اپنے علاقائی حلیفوں" پر قابو پانے کے لیے دباؤ دینے کے سلسلے میں فوجی کارروائی کے امکان کا اشارہ دیا ہے۔

تہران نے واشنگٹن اور اسرائیل پر مداخلت اور نظامِ حکومت تبدیل کرنے کے بہانے تراشنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی حملے، چاہے محدود ہی کیوں نہ ہو، کا جواب دے گا، جبکہ زور دیا ہے کہ جوہری پروگرام پر کسی پابندی کے بدلے پابندیوں میں نرمی ضروری ہے۔

جمعرات کو دونوں ملکوں نے جنیوا میں جوہری معاملات پر تیسرے دور کی گفتگو کی۔

گزشتہ ماہ جب جوہری سفارت کاری دوبارہ شروع ہوئی تو عمانی ثالثی میں دو دور بالواسطہ بات چیت ہو چکے ہیں، جو خطّی ممالک، بشمول ترکی، کی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے بعد ممکن ہوئے۔

 

دریافت کیجیے
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس
ٹرمپ:ایران جوہری ہتھیار کے منصوبے سے تقریباً دستبردار ہو چکا ہے
یمنی فوج کے حوثیوں کے اہم مراکز پر حملے
اسرائیل کے غزہ میں ایک فلیٹ پر حملے میں پانچ افراد لقمہ اجل
پاکستان: 6 سے زیادہ ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں
ہزاروں کی تعداد میں 'کاکروچ' کارکنان نے مودی کے الیکشن چیف کے استعفی کا مطالبہ کیا
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا