نارویجیئن میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا کہ سابق وزیر اعظم تھوربیورن یاگ لینڈ کو پچھلے ہفتے خودکشی کی کوشش کے بعد ہسپتال داخل کرایا گیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان پر بدنام تاجرِ جیفری ایپسٹائن سے منسلک مبینہ بدعنوانی تفتیش کے سلسلے میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
یہ دعوے سب سے پہلے خبر رساں سائٹ iNyheter نے شائع کیے، جس نے ایک نامعلوم ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے یاگ لینڈ کی حالت کو سنگین بتایا،جس ہسپتال میں وہ زیرِ علاج ہیں اس کے بارے میں تفصیلات کی عوامی طور پر تصدیق نہیں ہوئیں جبکہ ناروے کے حکام نے بھی کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
75 سالہ یاگ لینڈ ناروے کے نمایاں سیاسی رہنماؤں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں اور بعد ازاں کونسل آف یورپ کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ وہ کئی سال تک ناروے کی نوبل کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے اور نوبل امن انعام کے اعزاز کے تعین میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ناروے کے نشریاتی ادارے NRK نے اس ماہ کے آغاز میں رپورٹ کیا کہ پولیس نے یاگ لینڈ سے منسلک جائیدادوں پر تلاشی لی تھی، یہ تلاشی ایپسٹین سے منسلک مبینہ فوائد اور روابط کی جانچ کے حصے کے طور پر کی گئی ۔
واضح رہے کہ ایپسٹین کے عالمی نیٹ ورک نے دنیا بھر میں عوامی شخصیات پر توجہ مبذول کرائی ہے۔
iNyheter کی خبر کے بعد کہ بعض ایڈیٹرز نے یاگ لینڈ کے وکیل کے ساتھ اس حساس معاملے کی نوعیت کے پیشِ نظر ہسپتال داخلے کی کوریج نہ کرنے پر اتفاق کیا۔
اس افشا نے اس بحث کو دوبارہ ہوا دی ہے کہ نمایاں عہدیداروں کے خلاف سنگین الزامات کی صورت میں نجی زندگی بمقابلہ عوامی مفاد کا معیار کیا ہونا چاہیے۔
حکام نے تفتیش کی تفصیلات یا یاگ لینڈ کی طبی حالت کی عوامی طور پر تصدیق نہیں کی ہے ۔












