دنیا
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل کا پیٹرو کیمیکل کمپلیکس نشانہ بن گیا
بیرشیبا کے قریب واقع کیمیکل فیکٹری کے گودام میں آگ لگ گئی تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا: اسرائیل حیوم
اسرائیل کا پیٹرو کیمیکل کمپلیکس نشانہ بن گیا
اسرائیل کی حیفہ آئل ریفائنریز میں ایرانی میزائل کے ملبے کی زد میں آنے سے آگ بھڑک اٹھی۔ (فائل) / Reuters

ایران نے، جوابی کارروائیوں میں، اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع ایک بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں کیمیائی رساؤ کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اس سے قبل، ایران کے شہر بُوشہر میں واقع جوہری پاور پلانٹ کے قریب اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگیا اور تنصیب کو معمولی نقصان پہنچا تھا۔ تاہم ری ایکٹر محفوظ رہا ہے اور کسی قسم کے تابکاری اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔

ایران نے اس واقعے کو جارحانہ اقدام قرار دیا اور  میزائلوں اور ڈرونوں کے ذریعے جوابی حملے کئے ہیں۔

روزنامہ 'اسرائیل حیوم' کے مطابق 29 مارچ کو بیرشیبا کے قریب واقع ADAMA مکتیشم کیمیکل فیکٹری پر ایک میزائل یا  میزائل  کا ملبہ گرنے  کے باعث گودام میں آگ لگ گئی تاہم اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

تہران نے اس حملے کو "محدود ردعمل" قرار دیا ہے  لیکن اس سے خطے میں جوہری اور کیمیائی تنصیبات کے حوالے سے خدشات میں  مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

اخبار نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ حملے "اتفاقی نہیں"تھے۔ 'رامات حوفاو' کا علاقہ اسرائیل کے بڑے ترین کیمیکل اور پیٹروکیمیکل صنعتی مراکز میں سے ایک ہے اور  اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

اخبار میں کہا گیا  ہےکہ "اس مقام پر کسی بھی میزائل حملے سے، چاہے وہ تباہ کن نہ بھی ہو، نفسیاتی اثرات اور عوامی دباؤ کے ساتھ ساتھ ممکنہ ماحولیاتی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔"

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمپلیکس کے' بیرشیبا' اور اس کےگردو نواح  کی آبادیوں کے قریب ہونے نے  کسی خطرناک رساؤ یا شدید نقصان کی صورت میں بڑی تعداد میں لوگوں کے متاثر ہو سکنے سے متعلقہ خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ  حملے ایران میں پیٹروکیمیکل تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کئے گئے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کرنے کے بعد سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اس کارروائی کے نتیجے میں ایران کے سابق مذہبی رہنما علی خامنہ ای سمیت  اب تک 1,340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔

جوابی کاروائی میں ایران نے  اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔

دریافت کیجیے
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس
ٹرمپ:ایران جوہری ہتھیار کے منصوبے سے تقریباً دستبردار ہو چکا ہے
یمنی فوج کے حوثیوں کے اہم مراکز پر حملے
اسرائیل کے غزہ میں ایک فلیٹ پر حملے میں پانچ افراد لقمہ اجل
پاکستان: 6 سے زیادہ ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں
ہزاروں کی تعداد میں 'کاکروچ' کارکنان نے مودی کے الیکشن چیف کے استعفی کا مطالبہ کیا
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا