واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کے اشاروں کے بعد سرمایہ کاروں کی آبنائے ہُرمز کھُلنےسے متعلقہ توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔ نتیجتاً تیل کی قیمتیں فی بیرل 100 ڈالر سے نیچے آ گئیں اور عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی معیار سمجھے جانے والے برنٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کےمستقبل کے معاہدوں کی قیمتیں پیر کے روز 5 فیصد سے زیادہ گر گئیں۔ اس کمی کی وجہ وہ خبریں تھیں جن میں اشارہ دیا گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہفتہ وار مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پیر کے روز دورہ نئی دہلی کے دوران کہا تھا کہ معاہدے کا اعلان 'آج' کیا جا سکتا ہے۔
روبیو کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس تبصرے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مذاکرات 'باقاعدہ اور تعمیری انداز' میں جاری ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکی مذاکرات کاروں کو 'معاہدے میں جلد بازی سے پرہیز' کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اس کے باوجود بہت سے سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ ایک ایسے معاہدے کا اعلان کرنا چاہتے ہیں جس سےبراستہ آبنائے ہُرمز خلیج میں ٹینکروں کی آمد و رفت دوبارہ بحال ہو جائے اور شمالی نصف کرے میں گرمیوں کے سیاحتی موسم سے قبل ایندھن کی قیمتوں میں کمی آجائے گی۔
ایران کے مرکزی مذاکرات کار محمد باقر کالیباف کے 'سفارتی عمل'کے تحت پیر کے روز قطر پہنچنے کی خبروں نے بھی امید افزا ماحول کو تقویت دی۔
پیپر اسٹون شعبہ تحقیق کے سربراہ کرِس ویسٹن نے کہا ہے کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آنے والی خبروں کے مطابق ایک مفاہمتی یادداشت بڑی حد تک طے پا چکی ہے اور اس کی تفصیلات جلد کسی مرحلے پر سامنے لائی جائیں گی"۔
ان توقعات کے باعث ایشیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں اضافہ ہوا اور ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ 2.9 فیصد اضافے کے ساتھ پہلی بار 65 ہزار پوائنٹس سے اوپر پہنچ گئی۔
یورپ میں پیرس اور فرینکفرٹ کی مارکیٹوں میں بھی گرم خریداری دیکھی گئی۔ تاہم بعض یورپی ممالک میں وِٹ منڈے کی تعطیل کے باعث کاروباری حجم کم رہا، جبکہ لندن مارکیٹ سپرنگ بینک تعطیل کے سبب بند رہی۔
وال اسٹریٹ بھی پیر کے روز میموریل ڈے کی تعطیل کی وجہ سے بند تھا۔









