دنیا
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: ایران میں مظاہرین کو پھانسی دی تو انجام سخت ہو گا
ایرانی حکام نے بعض مظاہرین کو دی گئی پھانسی کی دھمکی پر عمل کیا تو 'بہت سخت اقدامات' کئے جائیں گے: صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ: ایران میں مظاہرین کو پھانسی دی تو انجام سخت ہو گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل، 13 جنوری 2026 کو جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ / AP
14 جنوری 2026

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے بعض مظاہرین کو دی گئی پھانسی کی دھمکی پر عمل کیا تو تفصیلات کا تعین کئے بغیر 'بہت سخت اقدامات' کئے جائیں گے۔ تاہم  تہران نے امریکی وارننگ کو 'فوجی مداخلت کا بہانہ' قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے قبل ازیں  ایرانی مظاہرین سے کہا تھا کہ 'مدد راستے میں ہے' اور کل بروز  منگل   سی بی ایس نیوز کے لئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر ایران نے مظاہرین کو پھانسی دی تو امریکہ کارروائی کرے گا۔

تہران کے اٹارنیوں  نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران گرفتار کئے گئے  بعض مشتبہ افراد کے خلاف 'محاربہ' یعنی 'اللہ کے خلاف جنگ' کھولنے کے جُرم میں  سزائے موت طلب کی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے متعدد دفعہ ایران کو مداخلت کی دھمکی دہی ہے اور حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران نے ایسی حرکت کی تو ہم  سخت اقدامات کریں گے۔  جب وہ ہزاروں لوگوں کو مارنا شروع کریں گے تو دیکھتے ہیں کہ اس کا  ان کے لیے نتیجہ کیا نکلتا ہے"۔

امریکہ وزارتِ خارجہ نے اپنے فارسی  ایکس اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان میں  کہا  ہےکہ "مظاہرین میں سے  26 سالہ لڑکی 'نگار عرفان سلطانی' کو بروز بدھ سزائے موت سنائی گئی ہے۔حالیہ مظاہروں  کے دوران گرفتار کئے گئے مظاہرین میں سے  نگار پہلی    ہے جسے سزائے موت سنائی گئی ہے لیکن وہ آخری نہیں ہو گی کیونکہ  10,600 سے زائد ایرانی گرفتار کیے جا چکے ہیں"۔

دوسری طرف ایران کے اقوامِ متحدہ مشن نے ایکس سے جاری کردہ  بیان  میں کہا  ہےکہ "واشنگٹن کی حکمتِ عملی 'دوبارہ ناکام' ہوگی۔امریکہ کی خیالی پالیسی اور ایران کے بارے میں  حکمتِ عملی کا محور 'نظام کی تبدیلی ہے'۔ ایران میں فوجی مداخلت کا بہانہ تیار کرنے کے لئے پابندیوں، دھمکیوں، منظم بغاوت اور افراتفری کو  بطور اوزار استعمال کیا جا رہا ہے"۔

ایران سرکاری  ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کی سیکورٹی فورسز کے درجنوں ارکان ہلاک ہو چکے ہیں اور ان کے جنازے حکومت کے حق میں نکالے جانے والے بڑے بڑے جلوسوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

ایران انتظامیہ نے  دارالحکومت تہران میں آج بروز بدھ، مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے   والےسکیورٹی اہلکاروں  کے لیے،اجتماعی نمازِ جنازہ کا اعلان بھی کیا ہے۔

حقوقِ انسانی گروپوں  نے  حکومت کو مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کرنے  اور کریک ڈاؤن کی شدّت کو چھپانے کے لیے انٹرنیٹ بند کر نے کا موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔

دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ کئی راتوں سے جاری اور  ملک بھر میں پھیلے ہوئے وسیع پیمانے کے احتجاجی مظاہروں کے بعد کنٹرول واپس حاصل کر لیا گیا ہے۔

دریافت کیجیے
پاکستان: خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے
میرے خیال میں تہران واقعی معاہدہ نہیں چاہتا تھا: ٹرمپ
ایرانی سڑکوں پر نکل آئے
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے مشرق وسطی کو آتش فشاں میں بدل سکتے ہیں: صدر ایردوان
ایران کی تصدیق: علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں
پاکستان کے فضائی آپریشن میں ہفتے کی رات تک 352 افغان فوجی اور طالبان ہلاک
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغ دیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ