دنیا
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: ایران میں مظاہرین کو پھانسی دی تو انجام سخت ہو گا
ایرانی حکام نے بعض مظاہرین کو دی گئی پھانسی کی دھمکی پر عمل کیا تو 'بہت سخت اقدامات' کئے جائیں گے: صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ: ایران میں مظاہرین کو پھانسی دی تو انجام سخت ہو گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل، 13 جنوری 2026 کو جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ / AP
19 گھنٹے قبل

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے بعض مظاہرین کو دی گئی پھانسی کی دھمکی پر عمل کیا تو تفصیلات کا تعین کئے بغیر 'بہت سخت اقدامات' کئے جائیں گے۔ تاہم  تہران نے امریکی وارننگ کو 'فوجی مداخلت کا بہانہ' قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے قبل ازیں  ایرانی مظاہرین سے کہا تھا کہ 'مدد راستے میں ہے' اور کل بروز  منگل   سی بی ایس نیوز کے لئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر ایران نے مظاہرین کو پھانسی دی تو امریکہ کارروائی کرے گا۔

تہران کے اٹارنیوں  نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہروں کے دوران گرفتار کئے گئے  بعض مشتبہ افراد کے خلاف 'محاربہ' یعنی 'اللہ کے خلاف جنگ' کھولنے کے جُرم میں  سزائے موت طلب کی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے متعدد دفعہ ایران کو مداخلت کی دھمکی دہی ہے اور حالیہ بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران نے ایسی حرکت کی تو ہم  سخت اقدامات کریں گے۔  جب وہ ہزاروں لوگوں کو مارنا شروع کریں گے تو دیکھتے ہیں کہ اس کا  ان کے لیے نتیجہ کیا نکلتا ہے"۔

امریکہ وزارتِ خارجہ نے اپنے فارسی  ایکس اکاؤنٹ سے جاری کردہ بیان میں  کہا  ہےکہ "مظاہرین میں سے  26 سالہ لڑکی 'نگار عرفان سلطانی' کو بروز بدھ سزائے موت سنائی گئی ہے۔حالیہ مظاہروں  کے دوران گرفتار کئے گئے مظاہرین میں سے  نگار پہلی    ہے جسے سزائے موت سنائی گئی ہے لیکن وہ آخری نہیں ہو گی کیونکہ  10,600 سے زائد ایرانی گرفتار کیے جا چکے ہیں"۔

دوسری طرف ایران کے اقوامِ متحدہ مشن نے ایکس سے جاری کردہ  بیان  میں کہا  ہےکہ "واشنگٹن کی حکمتِ عملی 'دوبارہ ناکام' ہوگی۔امریکہ کی خیالی پالیسی اور ایران کے بارے میں  حکمتِ عملی کا محور 'نظام کی تبدیلی ہے'۔ ایران میں فوجی مداخلت کا بہانہ تیار کرنے کے لئے پابندیوں، دھمکیوں، منظم بغاوت اور افراتفری کو  بطور اوزار استعمال کیا جا رہا ہے"۔

ایران سرکاری  ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کی سیکورٹی فورسز کے درجنوں ارکان ہلاک ہو چکے ہیں اور ان کے جنازے حکومت کے حق میں نکالے جانے والے بڑے بڑے جلوسوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔

ایران انتظامیہ نے  دارالحکومت تہران میں آج بروز بدھ، مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے   والےسکیورٹی اہلکاروں  کے لیے،اجتماعی نمازِ جنازہ کا اعلان بھی کیا ہے۔

حقوقِ انسانی گروپوں  نے  حکومت کو مظاہرین کو گولی مار کر ہلاک کرنے  اور کریک ڈاؤن کی شدّت کو چھپانے کے لیے انٹرنیٹ بند کر نے کا موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔

دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ کئی راتوں سے جاری اور  ملک بھر میں پھیلے ہوئے وسیع پیمانے کے احتجاجی مظاہروں کے بعد کنٹرول واپس حاصل کر لیا گیا ہے۔

دریافت کیجیے
ایران: ہم، امریکہ کے ساتھ، مذاکرات کے لئے تیار ہیں
چین: ٹرمپ، چین اور روس کو بہانہ بنا رہے ہیں
امرکی و ڈینش حکام گرین لینڈ پر مذاکرات کریں گے: میڈیا رپورٹ
ایران جوہری مذاکرات کے لیے ہم سے رابطے کر رہا ہے:ٹرمپ
جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی مزید 4 فلسطینی ہلاک
ارجنٹائن نے یروشلم میں سفارت خانے کی منتقلی روک دی
اقوام متحدہ کی ایران میں مظاہروں کے دوران طاقت کا بےجا استعمال نہ کرنے کی اپیل
ایران: احتجاجی مظاہرے، 100 سے زیادہ سکیورٹی اہکار ہلاک
ایران: حملہ ہوا تو ہم جوابی کاروائی تک محدود نہیں رہیں گے
امریکہ کی ایران کے خلاف کاروائی کا امکان، اسرائیل چوکنا ہو گیا
بین الاقوامی استحکام فورس میں شامل ہونا چاہتےہیں:بنگلہ دیش
دہشتگرد تنظیم YPG نے  حلب کا پانی بند کردیا
جنگ بندی کی تازہ خلاف ورزی،اسرائیلی فوج نےمزید 3 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
ٹرمپ نےفوج کو گرین لینڈ پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا حکم  دے دیا
اسرائیل نے سیز فائر کے باوجود غزہ میں نئے فضائی حملے شروع کر دیے