دنیا
2 منٹ پڑھنے
ختم کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں: جرمنی کی اسرائیل-امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ پر تنقید
جرمن وزیرِ دفاع بورس پیستورئس نے جمعرات کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس تنازعے کی کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔
ختم کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں: جرمنی کی اسرائیل-امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ پر تنقید
جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے کہا کہ فوری سفارتی حل اور جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ [فائل فوٹو] / Reuters

جرمن وزیرِ دفاع بورس پیستورئس نے جمعرات کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس تنازعے کی کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔

انہوں نے کینبرا، آسٹریلیا میں اپنے آسٹریلوی ہم منصب رِچرڈ مارلس کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا"جو چیز مجھے اس جنگ کے بارے میں سب سے زیادہ تشویش میں ڈالتی ہے وہ یہ ہے کہ اس بارے میں کوئی مشاورت نہیں ہوئی، کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے، کوئی واضح مقصد نہیں ہے اور میری نظر میں سب سے برا یہ ہے کہ کوئی خروجی حکمتِ عملی موجود نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ"یہ جنگ دنیا کی معیشتوں کے لیے تباہی ہے۔ نتائج محض دو ہفتوں سے کچھ زائد عرصے میں ہی واضح ہو چکے ہیں۔ ہم سے اس حوالے سے پہلےصلاح مشورہ نہیں کیا گیا۔ یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ اور اسی لیے ہم اس جنگ میں گھسیٹے جانا نہیں چاہتے—یہ بات بالکل واضح کرنی ہے۔"

پیستورئس نے زور دیا کہ جلد از جلد سفارتی حل نکالنا ضروری ہے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کے اثرات پوری دنیا تک محسوس ہوں گے۔

"اور اسی لیے ہم کسی بھی امن کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ہمیں جنگ بندی ملتی ہے تو ہم امن کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی مشن پر بات کریں گے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے۔"

امریکہ-ایران مذاکرات

جرمنی نے بدھ کو کہا کہ ایران میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی لانے کا وقت آ چکا ہے۔

" جرمن وزیرِ خارجہ یوہان ویڈفول نے برلن میں اپنے تیونسی ہم منصب محمد علی نفطی کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ میں کہا کہ"میرا خیال ہے کہ ہم اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہم بلاشبہ زیادہ ٹھوس مذاکرات پر بات کریں گے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ (پاکستان میں) ہونے والی بات چیت کا کیا نتیجہ نکلتا ہے — ایسی بات چیت جن میں ہم شامل نہیں ہیں، مگر جو بظاہر ہو رہی ہیں اور جن کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔"

حملوں میں تیزی اس وقت آئی جب 28 فروری سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کا آغاز ہوا، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد بار ڈرون اور میزائل حملے کیے، جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں۔

دریافت کیجیے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں