صوبائی آفات مینجمنٹ ایجنسی نے کہا ہے کہ جنوبی پاکستان کے ایک کوئلے کے کان میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 34 کان کن بحق ہو گئے، جبکہ امدادی ٹیمیں لاپتہ کان کنوں کی تلاش کر رہے ہیں۔
عہدیداروں کے مطابق یہ دھماکہ سہ پہر کے وقت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے شمال مشرق میں تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سورانج کے کوئلے کے ذخائر میں ایک نجی کان میں ہوا۔
دھماکے کے فوراً بعد کان کے اندر آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث کان کے بعض حصے منہدم ہو گئے۔ دھماکہ سورانج کے وسیع علاقے میں سنا گیا۔
جنوبی بلوچستان کی صوبائی آفات مینجمنٹ اتھارٹی نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا: "تعینات ٹیموں سے موصولہ معلومات کے مطابق 34 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔"
چیف انسپکٹر مائنز محمد عاطف نے کہا کہ خیال کیا جا رہا ہے کہ دھماکے کی وجہ تقریباً 1,200 میٹر گہرائی پر میتھین گیس کا جمع ہونا تھا، جس نے آگ بھڑکا دی اور کان کو خطرناک گیسوں سے بھر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بیشتر کوئلے کے کانوں کے دھماکے میتھین گیس کی موجودگی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
کان انجینئروں اورکان کنوں نے متاثرہ حصے تک پہنچنے کے لیے متبادل راستے بنائے، مگر بڑی مقدار میں میتھین گیس اور جاری آگ نے گہرائی میں پھنسے ہوئے کان کنوں اور لاشوں تک پہنچنے میں سنگین رکاوٹیں کھڑی کیں۔
پاکستان کی کوئلہ کان صنعت میں مہلک حادثات عام ہیں، خاص طور پر بلوچستان میں جہاں کئی کانوں میں مناسب ہوا رسانی، گیس مانیٹرنگ سسٹمز اور دیگر بنیادی حفاظتی انتظامات موجود نہیں ہوتے۔
کان کنوں اور مزدور تنظیموں کا طویل عرصے سے الزام ہے کہ کان مالکان حفاظتی ضوابط نافذ کرنے یا مناسب حفاظتی سازوسامان فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
خطرات اور کم اجرتوں کے باوجود ہزاروں کان کن بلوچستان میں اپنی روزی روٹی کے لیے کوئلہ صنعت پر منحصر ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا مگر کم ترقی یافتہ صوبہ ہے، جہاں بے روزگاری اور غربت عام ہیں۔




















