ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
صدر رجب طیب اردوعان نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون کے ساتھ روس۔یوکرین امن مرحلے اور غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے: صدارتی محکمہ اطلاعات
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کے ساتھ روس اور یوکرین کے امن عمل پر گفتگو کی۔ / Reuters

ترکیہ کے  صدر رجب طیب اردوعان نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل ماکرون کے ساتھ روس۔یوکرین امن مرحلے اور غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ترکیہ صدارتی محکمہ اطلاعات کے "این سوشل" سے بروز جمعرات  جاری کردہ بیان کے مطابق"ٹیلی فونک ملاقات  فرانس کی درخواست پر کی گئی ہے ۔ مذاکرات میں دونوں رہنماؤں نے "ترکیہ اور فرانس کے درمیان دو طرفہ تعلقات، روس۔یوکرین امن مرحلے، غزہ کی تازہ ترین صورتحال اور متعدد علاقائی و عالمی امور" پر گفتگو کی  گئی ہے۔

مذاکرات میں صدر اردوعان نے کہا ہے  کہ "روس۔یوکرین جنگ کو منصفانہ امن کے ذریعے ختم کرنے کے لئے ترکیہ کی  کوششیں جاری ہیں  اور انقرہ، الاسکا اور واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں پر بھی بغور نگاہ  رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا  ہےکہ "ترکیہ، یوکرین اور روس کے درمیان امن مذاکرات کے لیے کسی بھی اقدام کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔"

غزہ کے حوالے سےصدر  اردوعان نے کہا ہے  کہ ترکیہ، "ایک وسیع پیمانے کے انسانی المیے" کے مقابل، جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے ۔ مزید قبضے کو روکنے  کے لئے اسرائیل کی لاپرواہ جارحیت کو لگام ڈالنا ضروری ہے"۔

دونوں رہنماؤں نے ستمبر میں نیویارک میں متوقع اقوام متحدہ  جنرل اسمبلی اجلاس میں  ان مسائل پر تفصیلی  بات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا  ہےکہ "اردوعان نے کہا ہے کہ ترکیہ،  فرانس کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کو اہمیت دیتا ہے اور مختلف شعبوں، خاص طور پر دفاعی صنعت میں، تعلقات کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا"۔

فرانس کی طرف سے ترکیہ کا شکریہ

دوسری جانب، میکرون نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں  کہا  ہےکہ دونوں رہنماؤں نے روس کی "جارحانہ جنگ" کو ختم کرنے کے ہدف پر اتفاق کیا اور کیف کے لیے "جنگ بندی اور مضبوط سلامتی ضمانتوں" کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے اس معاملے پر تعاون کے لیے ترکیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے حوالے سے، میکرون نے غزہ پر نئی فوجی کارروائی شروع کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں خاص طور پر ای ون علاقے میں یہودی رہائشی بستیوں کی وسعت سے متعلق  اسرائیلی  فیصلوں کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا  ہےکہ ایسے اقدامات "امن  کوششوں کے منافی ہیں" اور صرف "مسلسل جنگ کی حالت" پیدا کریں گے۔

میکرون نے کہا  ہےکہ "خطے میں سب کے لیے امن اور سلامتی کا واحد راستہ  یہی ہے کہ جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، انسانی امداد کی فراہمی، اور سیاسی حل کی تلاش کے لئے کام کیا جائے"۔

انہوں نے مزید کہا ہے  کہ فرانس، سعودی عرب کے ساتھ مل کر ماہِ ستمبر میں نیویارک میں دو ریاستی حل کانفرنس  کا انعقاد کرے گا ۔ کانفرنس کی  تیاری کے مراحل میں ہم ترکیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"