دنیا
3 منٹ پڑھنے
پوتن نہیں زیلنسکی امن معاہدے میں رکاوٹ ہیں : ٹرمپ
ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن یوکرین میں اپنی تقریبا چار سالہ جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں البتہ صدر ولادیمیر زیلنسکی زیادہ محتاط تھے
پوتن نہیں زیلنسکی امن معاہدے میں رکاوٹ ہیں : ٹرمپ
ٹرمپ / Reuters
15 جنوری 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ روس نہیں یوکرین ممکنہ امن معاہدے میں رکاوٹ بن رہا ہے، جو یورپی اتحادیوں کے بیانات کے بالکل برعکس ہے، جنہوں نے مسلسل یہ دلیل دی ہے کہ ماسکو کو یوکرین میں اپنی جنگ ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

بدھ کو اوول آفس میں ایک خصوصی انٹرویو میں، ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن یوکرین میں اپنی تقریبا چار سالہ جنگ ختم کرنے کے لیے تیار ہیں البتہ صدر ولادیمیر زیلنسکی زیادہ محتاط تھے۔

ٹرمپ نے روسی صدر کے بارے میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں مگر  یوکرین معاہدے کے لیے کم تیار نظر آتا  ہے۔"

جب اُن سے  پوچھا گیا کہ امریکہ کی قیادت میں مذاکرات نے ابھی تک یورپ کے سب سے بڑے زمینی تنازعے کو دوسری جنگ عظیم کے بعد کیوں حل نہیں کیاتو ٹرمپ نے  جواب دیا  کہ  اس کی وجہ زیلنسکی ہیں۔

ٹرمپ کے بیانات یوکرینی رہنما سے دوبارہ مایوسی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ دونوں صدور کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں، اگرچہ ٹرمپ کے پہلے سال کے دوران ان کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔

کئی اتار چڑھاؤ کے بعد حالیہ ہفتوں میں امریکی قیادت میں مذاکرات جنگ کے بعد یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں پر مرکوز رہے ہیں تاکہ روس ممکنہ امن معاہدے کے بعد دوبارہ اس پر حملہ نہ کرے۔ وسیع معنوں میں امریکی مذاکرات کاروں نے روس کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے تحت یوکرین کو  مشرقی دونباس  کے علاقے کو چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔

یوکرینی حکام حالیہ مذاکرات میں شامل رہے ہیں جن کی قیادت امریکی جانب سے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر نے کی تھی ، کچھ یورپی حکام نے حال ہی میں کیف، واشنگٹن اور یورپی رہنماؤں کی جانب سے طے شدہ کچھ شرائط پر پوتن کے اتفاق پر شک ظاہر کیا ہے۔

ٹرمپ نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ وٹکوف اور کوشنر کے ماسکو کے ممکنہ دورے سے آگاہ نہیں ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اگلے ہفتے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈاوس میں عالمی اقتصادی  فورم  کے دوران  زیلنسکی سے ملاقات کریں گے تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ کریں گے لیکن اشارہ دیا کہ کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔

 دوسری جانب ،زیلنسکی نے عوامی طور پر ماسکو کے لیے کسی بھی علاقائی رعایت کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ کیف کو ملک کے آئین کے تحت  اپنا   علاقہ  چھوڑنے کا حق نہیں ہے۔

دریافت کیجیے
پاکستان: خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہرے
میرے خیال میں تہران واقعی معاہدہ نہیں چاہتا تھا: ٹرمپ
ایرانی سڑکوں پر نکل آئے
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے مشرق وسطی کو آتش فشاں میں بدل سکتے ہیں: صدر ایردوان
ایران کی تصدیق: علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں
پاکستان کے فضائی آپریشن میں ہفتے کی رات تک 352 افغان فوجی اور طالبان ہلاک
ترک وزیر خارجہ کا امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد متعدد عالمی ہم منصبوں سے رابطہ
اسرائیل نے ایرانی رہبران کی بلند پایہ شخصیات، بشمول خامنہ ای اور پزشکیان کو نشانہ بنایا: حکام
ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر اقوام متحدہ کے آئین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام
خدشات کی تصویری عکاسی: امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد کے مناظر
ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل داغ دیے
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے وسیع پیمانے کے خطرات کو جنم دے دیا
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ