دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکہ-ایران کے درمیان مذاکرات کی میز پر مفاہمت، میدان میں حملوں کی تیاری
اگر ایران اپنی جوہری صلاحیت کو 20 سال کے لیے منجمد کرنے پر رضا مند ہو تو مفاہمت ممکن ہو سکتی ہے۔
امریکہ-ایران کے درمیان مذاکرات کی میز پر مفاہمت، میدان میں حملوں کی تیاری
ٹرمپ کی جوہری صلاحیت کو منجمد کرنے کی تجویز کے جواب میں تہران یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ اپنے "خود مختار حقوق" سے دستبردار نہیں ہوگا۔ / Reuters

اامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا  دورہ چین ، تائیوان اور تجارتی جنگوں جیسے عالمی موضوعات کے سائے تلے، بنیادی طور پر جاری ایران بحران کے تناظر میں مکمل ہوا۔

دورے کے بعد امریکی انتظامیہ کے بیانات اور ایران کے جوابات علاقے میں عسکری حرکات کے رجحان کے بارے میں اہم اشارے فراہم کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کی جوہری پیشکش: 20 سال کی شرط

واشنگٹن کے ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے طیارے میں دیے گئے بیانات میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے حوالے سے واضح حد بندی کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران اپنی جوہری صلاحیت کو 20 سال کے لیے منجمد کرنے پر رضا مند ہو تو مفاہمت ممکن ہو سکتی ہے۔

 ایران کی جوہری پروگرام کے بارے میں پہلے پانچ سال کی مدت پر زور دیا جاتا رہا ہے، جبکہ امریکہ کا 20 سال پر مبنی اٹل  موقف دونوں فریقین کے درمیان ایک اہم مذاکراتی نکتہ ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ نے عسکری کارروائیوں کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اہداف کے 75 فیصد کو حاصل کر لیا گیا ہےاور ضرورت پڑنے پر حملے کی تیاری دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

چین کی ثالثی اورآبنائے ہرمز

دورے کے دوران چین کے ثالثی کردار پر بھی بات ہوئی۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اس بارے میں چین سے کوئی خاص توقع نہیں ہے، تاہم یہ سمجھا جا رہا ہے کہ بیجنگ خاص طور پرآبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے تہران پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ تہران حکومت کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز ‘‘دشمن بحری جہازوں’’ کے علاوہ تجارتی گزرگاہوں کے لیے کھلا ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا کہ حال ہی میں تیس چینی بحری جہاز اور ایک جاپانی جہاز منظم انداز میں آبنا سے گزارے گئے، جس سے علاقے پر ایران کے کنٹرول کے پیغام کو تقویت ملی۔

تہران: اگر امن تو امن، اگر جنگ تو جنگ

ایرانی حکام، بشمول وزیر خارجہ عباس عراقچی، نے بار بار اس بات پر زور دیا ہے کہ قومی حقوق سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تہران نے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر بند کرنا زیرِ غور نہیں، تاہم افزودگی کی سطح کو 60 فیصد سے 20 فیصد یا اس سے کم  سطح تک گرایا جا سکتا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیاکہ  آبنائے  ہرمز کی حکمرانی ایران کے پاس رہنی چاہیے اور ہرمز"ایرانی قوم کی ملکیت ہے" ۔ ایران نے اپنی 14 نکاتی تجویز میں پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور خصوصاً لبنان سمیت خطے میں اسرائیل کے حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

اختتام الہفتہ کی گہما گہی

تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ اگر جوہری ٹائم ٹیبل اور ہرمز کی حیثیت پر اختلاف برقرار رہتا ہے تو امریکہ ہفتے کے آخر سے نئی حملے کی تیاری کر سکتا ہے۔ ایران اس عمل کو ‘‘اگر امن ہے تو امن، مگر ہم دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں’’ کے مؤقف کے تحت جاری رکھے ہوئے ہے۔