اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں ایک پولیس تھانے کے باہر اتوار کو ہونے والے اور 16 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے خودکش حملے کی شدید مذّمت کی ہے۔
سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "سلامتی کونسل کے اراکین 2 اگست 2026 کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی تحصیل کبل میں واقع ایک پولیس اسٹیشن کے باہر کیے گئے گھناؤنے اور بزدلانہ خودکش حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔"
کونسل نے اس دھماکے کو "قابلِ مذّمت دہشت گردانہ کارروائی" قرار دیا اور متاثرین کے اہلِ خانہ، پاکستان کی حکومت اور عوام سے "تعزیت" کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "سلامتی کونسل کے اراکین اس بات کی دوبارہ توثیق کرتے ہیں کہ دہشت گردی اپنی تمام شکلوں اور مظاہر کے ساتھ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔"
کونسل نے اس بات پربھی زور دیا کہ حملے کے مرتکب افراد، منصوبہ ساز، مالی معاونین اور سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ ساتھ ہی تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔
یہ حملہ اتوار کے روز وادیٔ سوات کے قصبہ کبل میں کیا گیا۔ خود کُش حملہ آور نے پہلے پولیس تھانے میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس کی جانب سے روکے جانے پر اپنے جسم سے بندھا بارودی مواد اڑا دیا۔
واضح رہے کہ پاکستان کے شمال مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں حالیہ برسوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسلام آباد ان حملوں کا ذمہ دار افغانستان میں موجود اور تحریکِ طالبان پاکستان 'ٹی ٹی پی'سے منسلک دہشت گردوں کو قرار دیتا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان ان گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔
تاہم کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔




















