ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے 'زنگزور راہداری' کے نام سے بھی معروف بین الاقوامی امن و خوشحالی کے لیے ٹرمپ روٹ (TRIPP) کے بارے میں کہا کہ 'ہمیں اپنے خطے اور اردگرد میں کسی بھی امریکی موجودگی کے بارے میں تشویش لا حق ہے۔'
ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی خبر کے مطابق عباس عراقچی نے 'ٹرمپ روٹ' کے بارے میں ایک بیان دیا۔
عراقچی نے کہا، 'ہم خطے اور اردگرد میں امریکی کسی بھی موجودگی کے بارے میں فکرمند ہیں اور اس معاملے میں حساس ہیں۔'
عراقچی نے کہا کہ اس معاملے پر وہ آرمینیا کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ آرمینیا ایران کی سکیورٹی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
آذربائیجان کے صدر الہام علی یف اور آرمینیا کے وزیرِ اعظم پاشینیان کے درمیان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں 8 اگست کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والے سہہ فریقی سربراہی اجلاس میں TRIPP نافذ کیے جانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ جو آذربائیجان کے مرکزی علاقے اورناہچیوان خود مختار جمہوریہ کے درمیان بلا رکاوٹ رابطہ قائم کرتا ہے۔
زنگزور راہداری کے نام سے بھی موسوم اس منصوبے کے تحت ریلوے، سڑک، توانائی اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا ہدف بنایا گیا ہے۔















