مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
متحدہ عرب امارات: ہم جنگ کے حق میں نہیں، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کریں
متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور گرگش نے یہ بات نگل کو دبئی میں عالمی حکومتوں کے سربراہی اجلاس کے  سلسلے کے ایک پینل میں کہی۔
متحدہ عرب امارات: ہم جنگ کے حق میں نہیں، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کریں
"میرا خیال ہے کہ یہ خطہ مختلف تباہ کن محاذ آرائیوں سے گزرا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ ہمیں مزید ایک کی ضرورت ہے،" گرگاش نے کہا۔ / Reuters
14 گھنٹے قبل

مشرق وسطی  کا علاقہ امریکہ اور ایران کے درمیان مزید تصادم نہیں چاہتا اور تہران کو واشنگٹن کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا چاہیے۔

 متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور گرگش نے یہ بات نگل کو دبئی میں عالمی حکومتوں کے سربراہی اجلاس کے  سلسلے کے ایک پینل میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ "میرے خیال میں خطہ مختلف تباہ کن جھڑپوں سے گزر چکا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم مزید  ایک کے محتمل ہو سکتے ہیں، مگر میں چاہوں گا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات ایسے سمجھوتوں تک پہنچائیں کہ ہم ہر دوسرے دن ان مسائل کا سامنا نہ کریں۔"

ایرانی اور امریکی حکام نے پیر کو بتایا کہ ایران اور امریکہ جمعہ کو ترکیہ میں جوہری بات چیت دوبارہ شروع کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی استنبول میں ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں طویل المدتی تنازعے پر سفارتکاری کو بحال کیا جا سکے اور ایک نئی علاقائی جنگ کے خدشات کو دور کیا جا سکے، جب کہ ایک علاقائی سفارت کار نے کہا کہ سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک کے نمائندے بھی  اس عمل میں شرکت کریں گے۔

یہ منصوبہ بند مذاکرات ٹرمپ کی عسکری کاروائیوں کے بعد  تہران سے فوری مذاکرات میں شامل ہونے کے مطالبے کے بعد  طے پائے ہیں۔

ٹرمپ نے بعد ازاں کہا تھا کہ  ایران 'سنجیدگی سے' امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

امریکی صدر نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے، یہ تناؤ اُس وقت بڑھا جب ایران میں حکومت مخالف احتجاجات دسمبر کے اواخر میں شروع ہوئے، جن کی وجہ ریال کا انہدام، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی کے حالات کا خراب ہونا بتایا جاتا ہے۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کا 'تیز اور جامع' جواب دیا جائے گا۔

منصفانہ اور مساوی مذاکرات

ایران کے صدر مسعود پزِیشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے ملک کے وزیرِ خارجہ کو 'عزت، احتیاط، اور مصلحت' کے اصولوں پر مبنی 'منصفانہ اور مساوی مذاکرات' کرنے کی ہدایت دی ہے۔

پزِیشکیان نے منگل کو سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ہدایت 'خطے میں دوست حکومتوں کی درخواستوں کے پیشِ نظر' جاری کی گئی، جنہوں نے ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات کی تجویز کا جواب دینے کا زور دیا تھا۔

انہوں نے تاہم زور دیا کہ کسی بھی بات چیت کے لیے دھمکیوں اور 'غیر معقول توقعات' سے پاک 'مناسب ماحول' درکار ہوگا، اور مذاکرات 'ہمارے قومی مفادات کے دائرے' کے اندر ہونے چاہئیں۔

پیر کو  بعض ایرانی میڈیا  اداروں نے رپورٹ کیا تھا کہ پزِیشکیان نے امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کا حکم دیا تھا، جو جون 2025 میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔

جون 2025 میں، اسرائیل نے واشنگٹن  کے تعاون سےایران پر 12 روزہ حملہ کیا جس میں عسکری اور جوہری تنصیبات کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا اور سینئر کمانڈروں اور سائنسدانوں کو ہلاک کیا گیا۔ ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیلی عسکری اور خفیہ اداروں کے مقامات پر حملے کر کے جواب دیا، اس کے بعد امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کی ایک لہر چلائی۔

 

دریافت کیجیے
جنوبی کوریائی دفاعی فرم کا ناروے کو راکٹ فروخت کرنے کا معاہدہ
امریکہ: بھارت، ایران کی بجائے ونیزویلا سے تیل خریدے گا
ترکیہ: جمہوریہ کانگو کے ساتھ اظہارِ تعزیت
بھارت کے وزیر اعظم دورہ اسرائیل کے دوران ناچے اور گانا گایا
ایران: مذاکرات کے لیے ایک 'منظم فریم ورک' 'تشکیل پا رہا  اور آگے بڑھ رہا ہے
ترکیہ: اسرائیلی کاروائیاں بین الاقوامی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں
انڈونیشیا میں لرزشِ اراضی کے واقعات میں اموات کی تعداد کم از کم 64 ہو گئی
اسرائیل نے غزہ میں فائر بندی کے باوجود کم از کم 12 فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا
شام کے ایس ڈی ایف کے ساتھ انضمام کے معاہدہ پیر سے نافذ ہو جائے گا
امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے ایپسٹین کیس سے متعلق 3 ملین نئے صفحات کا اجراء
روس نے ٹرمپ کی درخواست پر یوکرینی دارالحکومت کیف پر حملوں کو روک دیا
اسرائیل نے غزہ میں 70,000 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا
امریکہ نے ایران کے خلاف مشرق وسطی میں ایک اور جنگی جہاز تعینات کیا ہے — رپورٹ
چین نے 11 مجرموں کو سزائے موت دے دی
ایران: ٹرمپ جنگ شروع کر سکتے ہیں اسے قابو میں نہیں رکھ سکتے