ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
بھارتی جارحیت قابل مذمت ہے ،اعتدال پسندی کا راستہ اپنایا جائے: ترکیہ
وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انقرہ نے کشیدگی میں اضافے کو 'اشتعال انگیز' قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مشترکہ فہم و تفہیم کے ساتھ کام کریں
بھارتی جارحیت قابل مذمت ہے ،اعتدال پسندی کا راستہ اپنایا جائے: ترکیہ
/ AA

ترکیہ نے پاکستان میں شہریوں اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے بھارت کے 6 مئی کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اس اقدام سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انقرہ نے کشیدگی میں اضافے کو 'اشتعال انگیز' قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مشترکہ فہم کے ساتھ کام کریں۔

وزارت نے کہا کہ ہم اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات کے ساتھ ساتھ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے گزشتہ رات کیے گئے حملے سے جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ترکیئے نے کشیدگی کو کم کرنے اور مزید تنازعات کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ وزارت نے مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لئے خاص طور پر انسداد دہشت گردی کے شعبے میں ضروری میکانزم قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انقرہ نے 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے پاکستان کے مطالبے کی بھی حمایت کی اور شفافیت اور علاقائی تعاون پر اپنے موقف کا اعادہ کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہم توقع کرتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں گے،" انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

دو جوہری طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی

پاکستانی حکام کے مطابق بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں چھ مقامات پر حملے کیے جن میں بچوں سمیت عام شہری ہلاک اور مساجد کو نقصان پہنچا۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں بہاولپور، مریدکے، مظفر آباد، کوٹلی، باغ اور احمد پور شرقی شامل ہیں۔ مرنے والوں میں ایک 3 سالہ لڑکی، ایک 16 سالہ لڑکی اور ایک 18 سالہ لڑکا شامل ہیں۔ درجنوں افراد زخمی ہوئے اور دو افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مختلف ہتھیاروں سے 24 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں گنجان آباد علاقوں اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پانچ بھارتی جنگی طیارے اور متعدد ڈرون مار گرائے ہیں۔

دریافت کیجیے
صدر ایردوان نے نیٹو اجلاس کے کامیاب رہنے پر انقرہ کے شہریوں اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا
خامنہ ای کا تابوت مشہد پہنچ گیا جہاں ان کی تدفین کی جائیگی
ایران کے بوشہر کے ایٹمی بجلی گھر کے اردگرد کا علاقہ امریکی حملے کا نشانہ بنا ہے: ریاستی میڈیا
جنوبی چین میں سیلاب سے 39 افراد ہلاک، پانی کا گودام پھٹنے سے تباہی مچی
ایران امریکی حملوں میں پانچ صوبوں میں 14 افراد ہلاک،، تہران-مشہد ریل آپریشن بند
بھارت جوہری توانائی کے منصوبوں کے تحت آسٹریلیا سے یورینیم برآمد کرے گا
شام دہشتگردی کا حامی ملک نہیں رہا:امریکہ
ایران کا امریکہ کو انتباہ: صرف تہران ہی آبنائے ہرمز کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے
صدر ایردوان  نے دفاعی تعلقات کے نمایاں ہونے والے انقرہ نیٹو سمٹ کو 'تاریخی کامیابی' قرار دیا
ایران: مغالطہ آمیز کوشش کا فوری جواب دیا جائیگا
جنوب مغربی پاکستان میں ہونے والی جھڑپ میں11 سیکیورٹی اہلکار شہید، 19 دہشت گرد ہلاک: ذرائع
کراچی کے قریب لاپتہ ہونے والے بوئنگ کارگو طیارے کی تلاش جاری
ایردوان نے نیٹو اتحادیوں میں دفاعی تعاون پر پابندیوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا
نیٹو رہنما سمٹ کے آخری دن آرکٹک، ایران اور یوکرین کے معاملات پر توجہ دیں گے
یورپی یونین اور نیٹو کی طرف سے"اتحاد" کا پیغام