وینیزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے اعلان کیا ہے کہ اس شدید دوہرے زلزلوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
روڈریگز نے جمعرات کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب تک ملی رپورٹس کے مطابق 32 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 700 سے زائد زخمی ہیں"۔
انہوں نے مزید کہا کہ دارالحکومت کے قریب واقع لاگوائرا کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے کے بارے میں ابھی مکمل ڈیٹا ان کے پاس دستیاب نہیں ہے۔
گزشتہ روز ملک کے شمالی کیریبین ساحل پر آنے والے ان شدید زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے بعد پورے خطے میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی اور ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے گروپ نیٹ بلاکس نے رپورٹ کیا ہے کہ زلزلوں کی وجہ سے ملک کے بجلی اور ٹیلی کام کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے بعد دارالحکومت کاراکاس سمیت پورے وینزویلا میں انٹرنیٹ رابطوں میں شدید کمی دیکھی گئی ہے۔
ماہرینِ زلزلہ نے تصدیق کی ہے کہ پہلے یاراکوئی ریاست کے دارالحکومت سان فیلیپے کے قریب 7.2 شدت کا ایک بہت بڑا پیشگی جھٹکا آیا اس کے ٹھیک 40 سیکنڈ بعد یو ماری کے عین جنوب مشرق میں اس سے بھی زیادہ تباہ کن 7.5 شدت کا مرکزی زلزلہ آیا۔
برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا ڈی سلوا نے بھی کہا ہے کہ انہوں نے اپنے ملک کی وزارت خارجہ کو وینزویلا کی صورتحال کا جائزہ لینے اور برازیل کی جانب سے فراہم کی جانے والی امدادی تدابیر تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔














