دنیا
2 منٹ پڑھنے
اسرائیلی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے لئے ایک دھچکا ہیں: لازارینی
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے تازہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے لئے ایک نیا دھچکا ہیں اور کنٹرول کو مزید گہرا کرنے کا خطرہ لئے ہوئے ہیں: فلپ لازارینی
اسرائیلی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے لئے ایک دھچکا ہیں: لازارینی
مقبوضہ مغربی کنارے میں، نابلس کے قریب بیتہ کے نزدیک ایک نئی غیر قانونی بستی میں بھاری مشینری کام کر رہی ہے اور ایک اسرائیلی پرچم لہرا رہا ہے۔ 9 فروری 2026۔ / Reuters

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کے سربراہ فلپ لازارینی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے تازہ اقدامات پر سخت تنقید کی اور کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کے لئے ایک نیا دھچکا ہیں اور کنٹرول کو مزید گہرا کرنے اور تشدد کو ہوا دینے کا خطرہ لئے ہوئے ہیں۔

یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا  ہےکہ اتوار کو اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے منظور کردہ  اقدامات 'بستیوں کے تیز رفتار پھیلاؤ' کا راستہ ہموار کریں گے اور فلسطینی امکانات کو مزید کمزور کریں گے۔

لازارینی نے بروز منگل ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "یہ اقدامات بڑھتے ہوئے قبضے، مایوسی اور تشدد کے لئے ایک نسخے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے خبردار کیا  ہےکہ یہ فیصلے خطرناک مثال  قائم کر رہے ہیں اور ان کے  عالمی نتائج ہو سکتے ہیں۔

اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنے کی کوششیں

اسرائیلی ذرائع ابلاغ  کے مطابق کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے  پر نافذ کردہ قانونی و سول فریم ورک میں بعض تبدیلیوں کی منظوری دی ہے۔

ان تبدیلیوں میں اسرائیلی افراد کے ہاتھ زمین کی فروخت کی ممانعت کے  قانون کی منسوخی، زمین کی ملکیت کے ریکارڈ کھولنا اور الخلیل کے نزدیک ایک بستی کے تعمیراتی اجازت ناموں کا اختیار  فلسطینی بلدیہ سے اسرائیل کی سول ایڈمنسٹریشن کو منتقل کرنا شامل ہے۔

ان  اقدامات کوایک ایسے  علاقے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے جسے فلسطینی  مستقبل کی آزاد ریاست کے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کا پھیلاؤ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

یہ تازہ اقدامات پہلے ہی کئی ماہ سے بڑھتے ہوئے تشدد کی لپیٹ میں آئے ہوئے  خطے میں تناؤ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

دریافت کیجیے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں