ٹرمپ انتظامیہ، آبنائے ہُرمز سے سیر و سفر کی بحالی کے لئے، بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوششیں کر رہی ہے۔
دی وال اسٹریٹ جرنل کی بروز بدھ شائع کردہ خبر کے مطابق امریکہ۔ایران کشیدگی کے باعث آمدورفت کے لئے بند 'اسٹریٹجک آبی گزرگاہ 'میں تقریباً منجمد جہاز رانی کےدوبارہ آغاز کے لئے ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دی وال اسٹریٹ جرنل نے امریکہ وزارتِ خارجہ کے امریکی سفارت خانوں کو ارسال کردہ مراسلے کے حوالے سے کہا ہے کہ واشنگٹن نے اپنے سفارتکاروں سے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی حکومتوں کو 'میرین فریڈم کنسٹرکٹ' نامی ایک نئے اتحاد میں شامل ہونے پر آمادہ کریں۔ یہ معاہدہ آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے معلومات کے تبادلے کو، سفارتی کوششوں اور پابندیوں کے نفاذ کو ہم آہنگ کرے گا۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ "آپ کی شرکت، آزادانہ بحری سیر و سفر کی بحالی اور عالمی معیشت کے تحفظ کے لئے ،ہماری مشترکہ صلاحیت کو مضبوط بنائے گی۔"
خبر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ سے ایک اعلیٰ سطحی شخصیت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ تجویز صدر کے زیر استعمال سفارتی و پالیسی ہتھیاروں میں سے صرف ایک ہے۔
یہ قدم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے کے مکمل طور پر کھلا اور تجارت کے لیے تیارہونے سے متعلقہ بیان سے چند ہفتوں بعد اٹھایا گیا ہے۔ اگرچہ بیان میں گزرگاہ کے کھُلا ہونے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن جہاز رانی اب بھی بڑی حد تک تعطل کا شکار ہے۔
ایران، تہران کی اجازت کے بغیر آبی گزرگاہ استعمال کرنے والے ٹینکروں کو بارودی سرنگوں سے نشانہ بنا رہا اور ان پر حملہ کر رہا ہے تو امریکہ بھی ایرانی بندرگاہوں سے داخلہ و خروج کرنے والے تمام جہازوں کی ناکہ بندی کئے ہوئے ہے۔
آبنائے کا مستقبل، تعطل کے شکار امن مذاکرات میں، ایک اہم متنازع موضوع بن چکا ہے۔ پیر کے روز ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے دستبرداری پر آمادہ ہونے تک ناکہ بندی کو طُول دینے کی تیاری کریں ۔










