مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
جنوبی افریقہ نے 153 فلسطینیوں کو 90 روزہ ویزا معافی دے دی
ہم غزّہ کے شہریوں کو 90 روزہ ویزا معافی دینے پر جنوبی افریقہ کے شکر گزار ہیں اور اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں: فلسطین وزارتِ خارجہ
جنوبی افریقہ  نے 153 فلسطینیوں کو 90 روزہ ویزا معافی دے دی
فلسطینی سفیر حنان جرار نے جنوبی افریقی حکام کے ساتھ مل کر اس کوتاہی کو سنبھالنے اور شہریوں کے وقار اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا۔ / Reuters

جنوبی افریقہ نے بروز جمعرات براستہ کینیا ملک میں داخل ہونے والے 153 فلسطینیوں کو، ضروری انٹرویو میں ناکامی اور پاسپورٹوں پر خروج کی مہروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ابتدا میں داخلے کی اجازت نہ دینے کے باوجود،  90 روزہ ویزا  معافی کی سہولت دے دی ہے۔

فلسطینی حکام نے، غزہ کے 150 سے زائد شہریوں کو قبول کرنے پر ،جنوبی افریقہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

''فلسطین وزارتِ خارجہ نے جمعہ کی شب جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ"ہم، اسرائیل کے رمون ہوائی اڈّے سے، براستہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی، جنوبی افریقہ کے ہوائی اڈّے پر پہنچنے والے غزّہ کے شہریوں کو کسی پیشگی اطلاع یا رابطے کی عدم موجودگی کے باوجود ملک میں داخلے کی اجازت دینے پر جنوبی افریقہ کے شکر گزار ہیں اور اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں"۔

وزارتِ خارجہ  نے خبردار کیا ہے کہ" فلسطینیوں کو گمراہ کر نے والے اور انہیں منتقلی یا ہجرت پر اُکسانے یا پھر  درپیش نازک صورتحال کا فائدہ اٹھا کر  انسانی اسمگلنگ  کرنے والے افراد اور کمپنیوں کو  ان غیرقانونی اعمال کے قانونی نتائج بھگتنا پڑیں گے  اور ان کے خلاف عدالتی کاروائی کی جائے گی"۔

انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک

فلسطین نے جنوبی افریقہ میں اپنے سفارتخانے کو ہدایت کی ہے کہ وہ، اس کوتاہی سے پیدا ہونے والی صورتحال پربات چیت ، دو سالہ نسل کُشی سے متاثرہ فلسطینی شہریوں کے وقار   کے تحفظ اور ان کے مصائب کو کم کرنے والے نتائج کے حصول کی خاطر ، متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے ۔

فلسطین وزارتِ خارجہ نے زور دیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ بین الاقوامی اور قومی قوانین کے تحت ایک جرم ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔

وزارت نے فلسطینی خاندانوں خصوصاً غزہ کے شہریوں سے، اپنی حفاظت کی خاطر، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکوں اور کسی بھی غیرسرکاری یا غیراندراج شدہ  ادارے سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی حقوق کے مضبوط حامی ملک 'جنوبی افریقہ' نے 29 دسمبر 2023 کو دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) میں اسرائیل کے خلاف ایک مقدمہ دائر کروایا تھا۔ مقّدمے میں اکتوبر 2023 سے غزّہ پر بمباری  کرتے  ' اسرائیل' کو 1948 کے نسل کشی کنونشن کے تحت اپنی ذمہ داریاں نظر انداز کرنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔

اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی ہلاکت خیز اسرائیلی جنگ میں اب تک 69,000 سے زائد فلسطینی قتل اور  170,700 سے زیادہ زخمی کئے جا چکے ہیں۔

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک