جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے،نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ، شمالی کوریا کے ساتھ امن و تعاون پر زور دیا اور بات چیت اور پُرامن بقائے باہمی کی بحالی کی تجویز پیش کی ہے۔
لی نے جزیرہ نما کوریا میں پرامن بقائے باہمی کے لیے تین "ابتدائی خاکے" پیش کیے ہیں۔ یہ خاکے، اختلافات کے مقابل 'احترامِ باہمی'، بحران کےدوران باہمی تنازعات کو غیر ضروری بنا سکنے کے اہل انتظامی طریقہ کار کے ذریعے 'مستحکم بقائے باہمی' اور، شمال مشرقی ایشیا اور اس سے آگے تک امن کے فروغ کی ضامن، 'ذمہ دارانہ بقائے باہمی' کی تجاویز پر مبنی ہیں۔
لی نے کہا ہے کہ سیول بین الاقوامی میدان میں شمال کا احترام جاری رکھے گا ۔ علاوہ ازیں صحت عامہ، آفات سے نمٹنے اور موسمیاتی بحران جیسے شعبوں میں بھی تعاون کی کوشش میں رہے گا۔
انہوں نے ، شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کے شکار مذاکرات کے دوبارہ اور بلا تاخیر آغاز کی امید کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ ہم ، جزیرہ نما کوریا پر جنگ کے خاتمے کے خواہش مند فریقین کے درمیان بات چیت کی خاطر ضروری زمین تیار کریں گے۔
لی نے کہا ہے کہ یہ عمل شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں میں پیشرفت کو روکنے سے شروع ہو گا۔ اس کے بعد درمیانی مدّت کی جوہری کارروائیوں میں کمی کی جائے گی اور بالآخر جزیرہ نما کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کیا جائے گا۔
صدر لی نے بین الاقوامی فیصلہ سازی عمل میں نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی اصل قدر رپورٹوں یا اعلانات میں نہیں اسلحے کی آوازوں کی بجائے بچوں کی ہنسی میں ، نوجوانوں میں آموخت کے رجحان میں ، کام کرنے اور نئے امتحانوں سے نمٹنے کے مواقع کے حصول میں ہے۔
آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر
عالمی توانائی کی رسدی زنجیروں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے لی نے خبردار کیا ہےکہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کی ناکہ بندیوں کے حوالے سے توانائی اور رسد کے اہم راستوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے نتائج دنیا بھر کے لوگوں کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔
آزادانہ بحری سیروسفر اور محفوظ آمدورفت کو بین الاقوامی قانون کے تحت 'حقوق' قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہےکہ تجارتی بحری جہازوں پر حملے اور عملے کی حفاظت کو لاحق خطرات کو "کسی بھی حالت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا"۔
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا ہے کہ سیئول، رکاوٹوں کو عالمی معیشت اور معاش کے لیےسنگین خطرے میں تبدیل ہونے سے روکنے کی خاطر، بین الاقوامی توانائی ایجنسی جیسے اداروں کی وساطت سے توانائی کی رسدی زنجیروں پر تعاون کو مضبوط کرے گا ۔ انہوں نے، عالمی عوامی اشیاء کی فراہمی کی صلاحیت اور خواہش کے حامل ممالک سے بھی تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
لی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ موئثر، جمہوری اور تابع مواخذہ شکل میں کام کا اہل بنانے کی خاطر اصلاحات کی حمایت کے اظہار کے ساتھ اپنی تقریر کا اختتام کیاہے۔




















