نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے عراق کے مغربی صحرا میں ایران کے خلاف کارروائیوں کی اعانت کے لیے دو خفیہ فوجی اڈے قائم کیے ہیں ۔
اخبار نے عراقی اور علاقائی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں منظر عام پر آنے والا ایک اڈہ ان دو خفیہ تنصیبات میں سے ایک ہے جو ایک سال سے زائد عرصے کے دوران وقفے وقفے سے عراق کے اندر اسرائیل کے ذریعے استعمال ہوتی رہی ہیں۔
حکام کے بقول ان اڈوں کو فضائی امداد، ایندھن بھرائی اور طبی خدمات کے لیے استعمال کیا گیا اور بعد ازاں جون 2025 میں ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران بھی ان کا کردار رہا۔
ان میں سے ایک اڈہ اس وقت سامنے آیا جب عراقی چرواہے عواد الشمری نے مارچ میں النخیب کے قریب غیر معمولی فوجی سرگرمی دیکھی۔
اس نے ہیلی کاپٹرز، خیمے اور بظاہر عارضی لینڈنگ پٹی دیکھنے پر مقامی حکام کو اطلاع کی۔
رپورٹ کے مطابق بعد ازاں الشمری کی لاش ملی، جب کہ علاقے کی تفتیش کے لیے بھیجے گئے عراقی دستے پر بھی فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں ایک سپاہی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔
اس ماہ کے اوائل میں دی وال اسٹریٹ جرنل نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے اس خطے میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا ہے۔
انادولو ایجنسی کو دیے گئے بیانات میں ایک اعلیٰ عراقی سیکیورٹی اہلکار نے عراق کے مغربی صحرا میں اسرائیلی عسکری سرگرمیوں کے دعوؤں کو 'غلط' قرار دیا۔ تاہم، اس نے کہا کہ مارچ میں النخیب کے صحرا کے علاقے میں عراقی افواج نے ایک 'پراسرار' فضائی کارروائی کا سامنا کیا اور اس واقعے کو تب سنبھال لیا گیا تھا۔













