ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
پاکستان: 'آنے والے ایام میں' امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی ہمارے لیے باعثِ فخر ہے
ہم نے  اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کے امکانات کے بارے میں چار فریقی اجلاس میں شرکت کرنے والے ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ سفارت کاروں کو بریف کیا ہے اورمہمان  وزرائے خارجہ نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان: 'آنے والے ایام میں' امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی ہمارے لیے باعثِ فخر ہے
ترکی کے وزیر خارجہ فیدان اسلام آباد میں ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک۔ / AA
14 گھنٹے قبل

پاکستانی  وزیر ِخارجہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مشرقِ وسطٰی تنازعے کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میزبانی پر "فخر" محسوس کرے گا۔

اسحاق ڈار نے اتوار کو دارالحکومت اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے چند گھنٹے بعد ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ " یہ ہمارے لیے باعث ِ فخر ہو گاکہ پاکستان، آئندہ چند روز میں دونوں فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کرکے جاری تنازعے کے جامع اور دیرپا تصفیے میں  تعاون کرے گا۔

ڈار نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران دونوں نے مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے  بتایا کہ ہم نے  اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کے امکانات کے بارے میں چار فریقی اجلاس میں شرکت کرنے والے ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ سفارت کاروں کو بریف کیا ہے اورمہمان  وزرائے خارجہ نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

ڈار نے مزید کہا کہ "ہم نے خطے میں جنگ کو جلد اور مستقل طور پر ختم کرنے کے ممکنہ طریقوں پر بھی گفتگو کی ہے۔ہم نے اتفاق کیا ہے کہ یہ جنگ کسی کے فائدے میں نہیں اور صرف موت و بربادی کا سبب بنے گی۔"   وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعے کا واحد "قابل عمل" حل " باہمی بات چیت  اور سفارتکاری" ہے۔

انتہائی اہم

انہوں نے آگے چلتے ہوئے  کہا کہ اعلیٰ سفارت کاروں نے "صورتِ حال کو قابو میں رکھنے، عسکری کشیدگی کے خطرے کو کم کرنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان منظم مذاکرات کے لیے حالات تیار کرنے" پر یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام سمیت  اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری کا مطالبہ کیا ۔

ڈار نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بھی "بڑے اہم" تعلقات قائم ہیں اور اسلام آباد اسی سلسلے میں واشنگٹن کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں رہا ہے تاکہ صورتِ حال کو کم کشیدہ کیا جا سکے اور تنازعے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

ڈار نے کہا کہ چین،  پاکستان کے اس اقدام کی "مکمل" طور پر حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے تمام دوستوں میں پاکستان کی کوششوں کے لیے مضبوط قدردانی اور حمایت موجود ہے۔ ہم پوری اخلاص اور عزم کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔"

ادھر وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی  پاکستان کے "مضبوط" عزم اور عہد کی تصدیق کی کہ وہ ایران اور امریکہ دونوں کو مذاکراتی میز تک لانے میں مثبت کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد کے دورے پر موجود ترک وزیر خارجہ حاقان فیدن اور مصر کے اعلیٰ سفارت کار بدر عبدالعتی سے ملاقات کے دوران کہی۔

شہباز نے دونوں  وزرائے خارجہ کے ساتھ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا تبادلہ کیا اور فوری طور پر دشمنیوں کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

دریافت کیجیے
پاکستان ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے ساتھ مشرق وسطی جنگ پر مذاکرات کی میزبانی کرے گا
وٹکوف: ایران کے ساتھ مذاکرات 'اس ہفتے' ہوں گے، ٹرمپ: ہم معاہدے کے قریب ہیں
کٹ کیٹ اڑ گئی: یورپ میں 12 ٹن چاکلیٹ چوری
اسرائیلی فوج غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کو نظر ِ انداز کر رہی ہے
یوکرین پر روسی حملوں میں ایک میٹرنٹی ہسپتال اور شہری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، 3 افراد ہلاک
ایرانی میزائلوں کا سعودی عرب میں امریکی بیس پر حملہ، 12 امریکی فوجی زخمی، کئی طیاروں کو نقصان
ترکیہ: ایران جنگ پر ثالث ملک پاکستان کے ساتھ ممکنہ اجلاس عنقریب ہو سکتا ہے
ایردوان: دوسری عالمی جنگ کے بعد کے عالمی نظام کو اپنی مشروطیت کے بحران کا سامنا ہے
اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی بری عسکری کارروائیوں کو وسعت دے رہا ہے
ترکیہ، فٹبال میں فیفا ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ سلسلے میں فائنل تک پہنچ گیا
ایران امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہا: عراقچی
نتن یاہو  نے ایران پر 48 گھنٹے کے تیز حملوں کا حکم دے دیا ہے
ترکیہ اور برطانیہ نے یورو فائٹر سپورٹ معاہدہ طے کر لیا
ختم کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں: جرمنی کی اسرائیل-امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ پر تنقید
اس وقت مذاکرات کی پیشکش ہتھیار پھینکنے کے مترادف ہو گی: حزب اللہ