ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
پاکستان: 'آنے والے ایام میں' امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی ہمارے لیے باعثِ فخر ہے
ہم نے  اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کے امکانات کے بارے میں چار فریقی اجلاس میں شرکت کرنے والے ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ سفارت کاروں کو بریف کیا ہے اورمہمان  وزرائے خارجہ نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان: 'آنے والے ایام میں' امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی ہمارے لیے باعثِ فخر ہے
ترکی کے وزیر خارجہ فیدان اسلام آباد میں ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک۔ / AA

پاکستانی  وزیر ِخارجہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مشرقِ وسطٰی تنازعے کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میزبانی پر "فخر" محسوس کرے گا۔

اسحاق ڈار نے اتوار کو دارالحکومت اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے چند گھنٹے بعد ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ " یہ ہمارے لیے باعث ِ فخر ہو گاکہ پاکستان، آئندہ چند روز میں دونوں فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی میزبانی اور سہولت کاری کرکے جاری تنازعے کے جامع اور دیرپا تصفیے میں  تعاون کرے گا۔

ڈار نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران دونوں نے مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان پر اعتماد کا اظہار کیا۔

انہوں نے  بتایا کہ ہم نے  اسلام آباد میں ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کے امکانات کے بارے میں چار فریقی اجلاس میں شرکت کرنے والے ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ سفارت کاروں کو بریف کیا ہے اورمہمان  وزرائے خارجہ نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

ڈار نے مزید کہا کہ "ہم نے خطے میں جنگ کو جلد اور مستقل طور پر ختم کرنے کے ممکنہ طریقوں پر بھی گفتگو کی ہے۔ہم نے اتفاق کیا ہے کہ یہ جنگ کسی کے فائدے میں نہیں اور صرف موت و بربادی کا سبب بنے گی۔"   وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تنازعے کا واحد "قابل عمل" حل " باہمی بات چیت  اور سفارتکاری" ہے۔

انتہائی اہم

انہوں نے آگے چلتے ہوئے  کہا کہ اعلیٰ سفارت کاروں نے "صورتِ حال کو قابو میں رکھنے، عسکری کشیدگی کے خطرے کو کم کرنے اور متعلقہ فریقین کے درمیان منظم مذاکرات کے لیے حالات تیار کرنے" پر یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے تمام ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام سمیت  اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کی پاسداری کا مطالبہ کیا ۔

ڈار نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بھی "بڑے اہم" تعلقات قائم ہیں اور اسلام آباد اسی سلسلے میں واشنگٹن کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں رہا ہے تاکہ صورتِ حال کو کم کشیدہ کیا جا سکے اور تنازعے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

ڈار نے کہا کہ چین،  پاکستان کے اس اقدام کی "مکمل" طور پر حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے تمام دوستوں میں پاکستان کی کوششوں کے لیے مضبوط قدردانی اور حمایت موجود ہے۔ ہم پوری اخلاص اور عزم کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔"

ادھر وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی  پاکستان کے "مضبوط" عزم اور عہد کی تصدیق کی کہ وہ ایران اور امریکہ دونوں کو مذاکراتی میز تک لانے میں مثبت کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے یہ بات اسلام آباد کے دورے پر موجود ترک وزیر خارجہ حاقان فیدن اور مصر کے اعلیٰ سفارت کار بدر عبدالعتی سے ملاقات کے دوران کہی۔

شہباز نے دونوں  وزرائے خارجہ کے ساتھ پاکستان کی سفارتی کوششوں کا تبادلہ کیا اور فوری طور پر دشمنیوں کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

دریافت کیجیے
سربراہ فوج کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں
تھائی لینڈ میں ایک نوجوان نے اپنے دادا دادی کو قتل کرنے کے بعد اسکول میں دھاوا بول دیا
روس کے وائلڈبیریز ہب پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی
لبنانی مہاجرین اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں: اقوامِ متحدہ
امریکا نے برازیل کے سفیر کے ویزے کو منسوخ کر دیا