ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی روس پہنچ گئے ہیں
واضح رہے کہ علاقائی سفارت کاری کی تیز رفتاری اور اسلام آباد میں طے شدہ مذاکرات کے منسوخ ہونے کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن کی کوششیں غیر یقینی صورتحال میں ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے ٹیلیگرام پر پوسٹ کیا کہ وہ پیر کی صبح سویرے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات اور بات چیت کے مقصد سے پ ماسکو پہنچے۔
ماسکو کی TASS خبر رساں ایجنسی نے اس سے پہلے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے حوالے سے تصدیق کی تھی کہ پوتن عراقچی سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں، ۔
عراقچی نے اسلام آبادکے دوروں کے درمیان عمان کا بھی دورہ کیا۔
گزشتہ ہفتے کے روز ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیر، وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی اس کے بعد عمان روانہ ہوئے اور پھر اسلام آباد واپس آئے۔
بعد میں وہ اعلیٰ حکام سے مذاکرات کے لیے روس روانہ ہو گئے جبکہ روس نے بھی اس دورے کی تصدیق کی۔
فارس خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ ایران نے ثالث پاکستان کے ذریعے امریکیوں کو "تحریری پیغامات" بھیجے ہیں جن میں سرخ لکیریں بیان کی گئی ہیں جن میں جوہری مسائل اور آبنائے ہرمز شامل ہیں۔
تاہم، فارس نے کہا کہ یہ پیغامات رسمی مذاکرات کا حصہ نہیں تھے۔
امریکہ-اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی اب تک برقرار ہے لیکن اس کے اقتصادی اثرات پوری دنیا میں اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ایران نے آبنائے بند کر دی ہے، جس سے تیل، گیس اور کھاد کی ترسیل رک گئی ہے اور قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک میں غذائی عدم تحفظ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مذاکرات کی امیدیں وٹکوف اور کشنر کے مجوزہ دورے پر مرکوز تھیں لیکن ٹرمپ نے یہ سفر اسے بس بیٹھ کر کسی بے معنی بات پر گفتگوقرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ۔
اتوار کو ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ اگر ایران مذاکرات چاہتا ہے، تو وہ ہمارے پاس آ سکتے ہیں، یا ہمیں فون کر سکتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ ایک ٹیلیفون جیسی چیز موجود ہے، ہمارے پاس اچھی محفوظ لائنیں ہیں۔"
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا منسوخی دوبارہ لڑائی کی علامت ہےتو ٹرمپ نے کہا کہ نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے ۔"
ملاقاتوں کی اس بھرمار کے درمیان عراقچی نے کہا کہ انہوں نے "ابھی تک یہ نہیں دیکھا کہ آیا امریکہ واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔"
پاسداران انقلاب نے اپنے سرکاری ٹیلیگرام چینل پر کہا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور اس کے اثرات کو امریکہ اور خطے میں وائٹ ہاؤس کے حامیوں پر برقرار رکھنا اسلامی ایران کی حتمی حکمت عملی ہے
امریکہ نے جواباً ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی ہے۔
سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری ایک بیان میں ایران کی فوج نے خبردار کیا کہ امریکی ناکہ بندی، غنڈہ گردی اور بحری قزاقی کے مسلسل اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔
















