دنیا
3 منٹ پڑھنے
ایران نے تجویز پیش کر دی
ایران نے، موضوع سے متعلق سنجیدگی کی پرکھ کے لئے، امریکی فریقی کو ایک تجویز پیش کر دی
ایران  نے تجویز پیش کر دی
(فائل) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 6 فروری 2026 کو مسقط، عمان میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے مقام پر جاتے ہوئے۔ / AP
13 گھنٹے قبل

ایران نے، موضوع سے متعلق سنجیدگی کی پرکھ کے لئے، امریکی فریقی کو ایک تجویز پیش کی ہے۔

آج بروز جمعرات متوقع تیسرے مذاکراتی دور  کے لئے ایرانی وفد میں شامل سرکاری خبر ایجنسی ارنا   نے جاری کردہ خبر کہا ہے کہ امریکی فریق کی سنجیدگی کی جانچ کے لئے ایرانی وفد نے ایک تجویز کا مسّودہ   عمانی ثالثوں  کی وساطت سے امریکی فریق کو پیش کر دیا ہے۔ 

اِرنا نے کہا ہے کہ 'تجویز کو مسترد کرنا، امریکہ کے مذاکراتی حل کے معاملے میں سنجیدہ نہ ہونے  اور مذاکرات کے محض ایک کھیل ہونے سے متعلق  شبہے کی تصدیق ہوگا۔تاہم ایجنسی  نے اس تجویز کے مندرجات  کا انکشاف نہیں کیا۔

واضح رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی،  سیاسی امور کے نائب  ذمہ دارمجید تخت روانچی اور جوہری، قانونی و اقتصادی ماہرین پر مشتمل ایک وفد کے ہمراہ بدھ کی شام جنیوا پہنچے تھے۔

جنیوا  پہنچنے سے فوراً بعد عراقچی نے ، بات چیت کے دائرہ کار اور امریکی  فریق کو  پیش کیے جانے والے مسودہ تجویز پر تبادلہ خیال کی خاطر، اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے ملاقات کی۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملاقات کے دوران عراقچی نے زور دیا ہے کہ جاری مذاکرات کی کامیابی کے لیے 'دوسری جانب کا سنجیدہ ہونا' اور 'متضاد رویوں اور موقف' سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

عمان وزارت خارجہ نے جاری کردہ  بیان میں کہا ہے کہ دونوں سفارت کاروں نے اُن خیالات اور تجاویز کا جائزہ لیا جو ایرانی وفد، کسی معاہدے کی خاطر جاری،  اس دورِ مذاکرات میں پیش کرے گا ۔

عمانی وزیرِ خارجہ نے کہا  ہےکہ ان کا ملک امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بات چیت کی حمایت کرنے  اور سہولت فراہم کرنے کا پابند ہے۔

تجویز کا مسودہ اُن رہنما اصولوں کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے جن پر گذشتہ مذاکراتی دور میں دونوں اطراف متفق ہوئی تھیں۔

ذرائع ابلاغ  کے مطابق وٹکوف نے بھی جمعرات کی صبح جنیوا پہنچنے کے بعد، تبادلہ خیال اور ایرانی تجویز کی وصولی کے لئے، عمان کے وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی ہے ۔

عراقچی نے،جنیوا روانگی سے قبل، جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ  ایران جنیوا میں مذاکرات کو، ہر ممکنہ حد تک مختصر ترین وقت میں  منصفانہ و عادلانہ معاہدہ حاصل کرنے کے عزم کے ساتھ، دوبارہ شروع کرے گا۔

اُنھوں نے مذاکرات کو ایک تاریخی موقع برائے غیر معمولی معاہدہ  قرار دیا  اور کہا  تھا کہ نئے مذاکراتی دور کی بنیاد  مسقط، عمان اور جنیوا میں پہلے کے ردو بدل سے وجود میں آنے والے سمجھوتوں' پر ہو گی ۔

17 فروری کے مذاکراتی دور کے بعد دونوں فریقین نے معاہدے کے لئے بنیادی اصولوں پر اتفاق کرنے  کا اعلان کیا  اور مثبت جائزے پیش کئے تھے۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذکورہ  بالواسطہ جوہری مذاکرات، خلیجی خطے میں امریکہ کی بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی اور ایران کی انقلابی گارڈ (IRGC) کی جانب سے متعدد مشقوں کے سلسلے کے تناظر میں ہو رہے ہیں۔