امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز "بہت جلد" دوبارہ کھول دی جائے گی لیکن اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ سخت فوجی کارروائی کرے گا۔
منگل کے روز فوکس نیوز کے لئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ"آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہم انہیں بہت سختی سے نشانہ بنائیں گے اور پھر بھی آبنائے کھل جائے گی۔"
ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس سے پہلے وہ، ایران کے خلاف، ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے لیکن ایرانی حکام کی جانب سے مذاکرات کی درخواست کے بعد انہوں نے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ"ہم ایک بہت بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ اگر حملہ ہوتا تو یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کا بڑا ترین حملہ ہوتا۔ پھر انہوں نے مجھے فون کیا اور بہت شائستگی سے کہا کہ 'براہِ کرم، کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟ 'میں نے کہا "ہاں، ہم بات کر سکتے ہیں۔ آئیے، اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے حل کر لیتے ہیں"۔
ٹرمپ نے، دوبارہ مذاکرات سے پیچھے ہٹنے پر، ایران کو سخت جواب کے بارے میں خبردار کیا اور کہا ہےکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان "بہت اچھی بات چیت" جاری ہے۔تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہےکہ تہران نے اب تک عوامی سطح پر مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کی تصدیق نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ"اصل اہمیت صرف عمل کی ہے اور ہم ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ اگر معاہدہ نہ ہوا تو یہ بہت افسوسناک ہوگا۔"
"بہت جلد"
ٹرمپ نے منگل کو ایران کے ساتھ بات چیت کے بارے میں کہا ہے کہ "آج پورا دن مذاکرات ہوئے اور صورتحال کافی مثبت دکھائی دے رہی ہے۔ اگر یہ ہو جاتا ہے، یعنی آبنائے ہرمز کھل جاتی ہے کہ جو ویسے بھی جزوی طور پر کھلی ہوئی ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں ناکہ بندی کے ذریعے اس کا مکمل کنٹرول ہمارے پاس ہے اور اگر مزید کوئی کشیدگی پیدا نہ ہوئی تو تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ میرے خیال میں پٹرول کی قیمت 2.50 ڈالر فی گیلن تک آ سکتی ہے۔"
ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہےکہ تیل کمپنیوں کو پٹرول کی قیمتیں کم کرنا شروع کر دینی چاہییں۔
بعد ازاں کیلیفورنیا میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے کہا ہے کہ" امریکہ ایران کے ساتھ "بہت اچھی پیش رفت" کر رہا ہے۔اگلے 48 گھنٹوں میں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔"
ایکسیئس نیوز سائٹ کی منگل کو شائع کردہ خبر کے مطابق امریکہ، ایران اور عمان ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ معاہدےکا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو بحال کرنا ہے۔ خبر کے مطابق اس معاہدے کا اعلان بدھ کے روز بھی کیا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل منگل کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں سے آمدورفت کے حوالے سے مذاکرات ابھی مکمل نہیں ہوئے، تاہم امید ہے کہ "بہت جلد" ایک معاہدہ طے پا جائے گا۔
واضح رہے کہ رواں سال ماہِ فروری میں تہران پر امریکہ۔اسرائیل مشترکہ حملوں کے بعد سے ایران ۔ امریکہ کشیدگی جاری ہے ۔ جوابی کاروائی میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کئے تھے۔
اپریل میں امریکہ اور ایران جنگ بندی پر متفق ہوئے، جس کے بعد جون میں دونوں ممالک نے پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس یاداشتِ مفاہمت کا مقصد فوجی تصادم کا خاتمہ اور مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔
تاہم گزشتہ ماہ یہ معاہدہ ٹوٹ گیا، جس کے بعد دونوں فریق تقریباً دو ہفتوں تک ایک دوسرے پر حملے کرتے رہے۔ بعد ازاں تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اچانک بمباری روکنے کا اعلان کر دیا تھا۔

















