سیاست
2 منٹ پڑھنے
ایران: امریکہ کے سفر پر پابندی 'نسلی پرستی' پر مبنی ذہنیت کی عکاسی ہے
یہ پالیسی "بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے" اور "محض قومیت یا مذہب کی بنیاد پر لاکھوں لوگوں کو سیاحت کے حق سے محروم کرتی ہے۔"
ایران: امریکہ کے سفر پر پابندی 'نسلی پرستی' پر مبنی ذہنیت کی عکاسی ہے
Iran’s foreign ministry called the ban a sign of supremacist American mentality. / Reuters

تہران نے ہفتے کے روز ایرانیوں اور دیگر 11 زیادہ تر مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے شہریوں پر امریکی سفری پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا یہ فیصلہ "نسلی ذہنیت" کی علامت ہے۔

وزارت خارجہ کے ایرانیوں کے بیرون ملک امور کے ڈائریکٹر جنرل، علی رضا ہاشمی راجا نے 9 جون سے نافذ العمل  ہونے والے اس اقدام کو"امریکی پالیسی سازوں میں برتری اور نسلی ذہنیت کے غلبے کی واضح علامت" قرار دیا۔

انہوں نے وزارت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں مزید کہا کہ یہ فیصلہ "ایرانی اور مسلم عوام کے خلاف امریکی فیصلہ سازوں کی  دیرینہ دشمنی کا مظہر ہے۔"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت قومی سلامتی کے خدشات کی بنیاد پر دوبارہ وسیع پابندیاں نافذ کی گئیں، جو ان کی پہلی مدت کے سفری پابندیوں کی بازگشت ہیں۔ یہ اقدام کولوراڈو میں اسرائیل کے حق میں ایک ریلی پر بم حملے کے بعد کیا گیا۔

ہاشمی راجا نے کہا کہ یہ پالیسی "بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہے" اور "محض قومیت یا مذہب کی بنیاد پر لاکھوں لوگوں کو سیاحت کے حق سے محروم کرتی ہے۔"

وزارت خارجہ کے عہدیدار نے کہا کہ یہ پابندی تفریق بازی ہے اور "امریکی حکومت کے لیے بین الاقوامی ذمہ داری کا باعث بنے گی،" تاہم انہوں نے مزید وضاحت نہیں کی۔

ٹرمپ کی پابندی

ایران کے علاوہ،  یہ امریکی پابندی افغانستان، میانمار، چاڈ، کانگو-برازیل، استوائی گنی، اریٹیریا، ہیٹی، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں کو بھی نشانہ بناتی ہے۔ سات دیگر ممالک کے مسافروں پر جزوی پابندی عائد کی گئی ہے۔

امریکہ ایران سے باہر ایرانی طبقے کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2020 میں امریکہ میں تقریباً 1ڈیڑہ ملین ایرانی آباد ہیں۔

ایران اور امریکہ نے 1979 کے انقلاب کے فوراً بعد سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے، اور تب سے تعلقات شدید کشیدہ رہے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک