ثقافت
2 منٹ پڑھنے
امریکہ کا 250 واں یومِ آزادی، طوفانی بارش کے باعث صدر ٹرمپ کی تقریر ادھوری رہ گئی
250 سالوں سے ریاستہائے متحدہ امریکہ دنیا کی تمام قوموں کے لئے امید، روشنی اور عظمت کی علامت بنا ہوا ہے: صدر ٹرمپ
امریکہ کا 250 واں یومِ آزادی، طوفانی بارش کے باعث صدر ٹرمپ کی تقریر ادھوری رہ گئی
ٹرمپ واشنگٹن میں امریکہ کا 250 واں یومِ آزادی منا رہے ہیں / Reuters

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی 250 ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے نیشنل مال پر منعقد ہ عظیم الشان "امریکہ کو سلام" نامی تقریب کی قیادت کی۔

1776 میں اعلانِ آزادی پر دستخط کے بعد ڈھائی صدیوں کی تکمیل کے اس تاریخی موقع پر فضائی ، بری اور بحری افواج کے دستوں کے مظاہروں سمیت آتش بازی مظاہرہ بھی کیا گیا۔منتظمین کے مطابق  آتش بازی کا یہ مظاہرہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے اہلِ خانہ اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے ہمراہ تقریب میں شرکت کی اور تقریب سے  خطاب میں امریکی تاریخ اور قومی فخر پر خصوصی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ "250 برسوں سے ریاستہائے متحدہ امریکہ دنیا کی تمام اقوام کے لیے امید، امکانات، روشنی اور عظمت کی علامت بنا ہوا  ہے۔ دنیا بھر کے لوگ ہماری طرح بننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کوئی بھی ہماری طرح نہیں بن سکتا۔ اور خدا کی مدد سے ہم ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے بلکہ اس سے بھی بہتر ہوں گے۔"

"ہم انتظار کریں گے"

اس موقع پر  شدید گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش کے باعث نیشنل مال میں موجود شرکاء کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا، جس کے باعث  شام کی تقریب اور صدارتی خطاب میں تاخیر ہوئی۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ  پیغام میں کہا  ہے کہ خراب موسم کے باوجود وہ خطاب ضرور کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ منتظمین طوفان کے گزرنے کا انتظار کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ ان کا خطاب مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 11 بجے ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم انتظار کریں گے، چاہے صبح کے دو بج جائیں یا ایک گھنٹے بعد خطاب کرنا پڑے، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسا لگتا ہے کہ طوفان گزر جائے گا، یہ ہمیشہ گزر جاتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "جو بھی ہو، میں وہاں موجود رہوں گا اور بارش کو اپنی آزادی کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات میں رکاوٹ نہیں بننے دوں گا۔"

 

دریافت کیجیے