سیاست
2 منٹ پڑھنے
پوتن نے روس کی بحری طاقت کو بحال کرنے کے لیے نئی بحری حکمت عملی کی منظوری دی
"سمندروں میں صورتحال کی پیش رفت کے منظرناموں، چیلنجز اور خطرات کے ارتقاء، اور یقیناً روسی بحریہ کے سامنے موجود اہداف اور مقاصد کی وضاحت کے بغیر اس قسم کا کام انجام دینا ممکن نہیں۔" کریملن
پوتن نے روس کی بحری طاقت کو بحال کرنے کے لیے نئی بحری حکمت عملی کی منظوری دی
Russia currently holds the world’s third most powerful navy after China and the US. / Reuters

کریملن کے مشیر نکولائی پاتروشیف نے پیر کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا  ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک نئی بحری حکمت عملی کی منظوری دی ہے جس کا مقصد روس کی حیثیت کو دنیا کی اہم بحری طاقتوں میں دوبارہ مکمل طور پر بحال کرنا ہے ۔

عوامی درجہ بندی کے مطابق، چین اور امریکہ کے بعد روس کے پاس دنیا کی تیسری سب سے طاقتور بحریہ ہے، حالانکہ یوکرین کی جنگ میں بحریہ کو کئی نمایاں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاتروشیف، جو سابق کے جی بی افسر ہیں اور سوویت دور میں سینٹ پیٹرزبرگ میں پوتن کے ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں، نے کہا کہ نئی بحری حکمت عملی — جس کا عنوان ہے "2050 تک روسی بحریہ کی ترقی کی حکمت عملی" — مئی کے آخر میں پوتن کی جانب سے منظور کی گئی تھی۔

پاتروشیف نے اخبار آرگومینتی ای فاکتی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "روس کی حیثیت دنیا کی عظیم بحری طاقتوں میں سے ایک کے طور پر بتدریج بحال ہو رہی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "سمندروں میں صورتحال کی پیش رفت کے منظرناموں، چیلنجز اور خطرات کے ارتقاء، اور یقیناً روسی بحریہ کے سامنے موجود اہداف اور مقاصد کی وضاحت کے بغیر اس قسم کا کام انجام دینا ممکن نہیں۔"

پاتروشیف نے حکمت عملی کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں،  روس نے دفاع اور سیکیورٹی پر اخراجات کو سرد جنگ کی سطح تک بڑھا دیا ہے، جس کی عکاسی  مجموعی ملکی پیداوار کے تناسب کے طور پر ہوتی ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کی 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق، چین کے پاس دنیا کی سب سے بڑی بحریہ ہے اور بیجنگ کی مجموعی جنگی قوت 2030 تک 460 جہازوں تک بڑھنے کی توقع ہے۔

اوپن سورس ڈیٹا کے مطابق، روس کے پاس 79 آبدوزیں ہیں، جن میں 14 جوہری طاقت سے چلنے والی بیلسٹک میزائل آبدوزیں شامل ہیں، اور 222 جنگی بحری  جہاز ہیں۔ اس کا مرکزی بیڑا شمالی بیڑا ہے، جس کا صدر دفتر سیورومورسک میں بارینٹس سمندر پر واقع ہے۔

دریافت کیجیے
ٹرمپ کا زیلینسکی کے خلاف رد عمل: "پوتن کے ساتھ کام کرنا زیادہ آسان ہے"
ٹرمپ اور نتن یاہو کی اسرائیل اور امریکہ میں انتخابات سے قبل ایران پر حملے کے امکان پر بات چیت
پاشنیان: آذربائیجان کے ساتھ امن کا قیام ارمینیا کے دوام کی بنیاد تشکیل دے گا
ٹرمپ کی طرف سے توانائی جنگ بندی کے اعلان پر ماسکو کیونکر خاموش ہے؟
امریکی جج کا عوامی وسائل کی فنڈنگ سے ٹرمپ کی حمایت میں اشتہارات کو روکنے کا فیصلہ
کریملن: پوتن نے ایران تنازعہ حل ٹرمپ کے سامنے رکھ دیا
مغربی کنارے میں قتل ہونے والے امریکیوں کے بارے میں معلومات کو خفیہ رکھنے کا دعوی
ہزیشکیان نے پوتن کو ایران اور امریکہ کے مابین نئی مذاکراتی تجاویز سے آگاہی کرائی
ٹرمپ انتظامیہ امریکہ سے مہاجرین کو جہازوں کے ذریعے ملک بدر کرے گی
فرانسیسی ممبرِ پارلیمنٹ ریما حسن نے یورپی پارلیمنٹ میں اسرائیلی جھنڈا ہٹا دیا
امریکی نائب صدر؛ جنگ کے خاتمے کے لئے ایران کو یورینیم افزودگی کی سطح کو کم کرنا ہو گا
امریکہ اسرائیل میں اضافی فوجی اور  جنگی طیاروں کی تعیناتی کی تیاری میں ہے، رپورٹ
ٹرمپ: ایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی
پوتن: روس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا
پولینڈ: نیٹو پر 'بڑے حملے' کے لیے روس کے پاس مطلوبہ حد تک طاقت موجود نہیں
ٹرمپ نے ایرانی ہرمز امن معاہدے کو مسترد کردیا، تیل کے بھاو 105 ڈالر سے تجاوز کر گئے
شی-ٹرمپ مذاکرات میں 30 بلین ڈالر  کے مال و اسباب پر دوطرفہ کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کا فیصلہ
ایران: رُوٹے نے یورپ کے ایران جنگ میں کردار کا اعتراف کیا ہے
یونانی وزیر اعظم میچوتاکیس: "ہم جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتے، ساتھ ساتھ زہنا ہمارا مقدر ہے"
امریکی سیکرٹری خزانہ: ایرانی اقوام متحدہ وفد کیسے اپنے ملک کو لوٹے گا