دنیا
2 منٹ پڑھنے
امریکی میزائل ذخائر میں 'نمایاں کمی' آئی ہے، مستقبل میں یہ صورتحال سنگین بن سکتی ہے: رپورٹ
امریکی فوج نے تقریباً 30 فیصد ٹومہاک میزائلز، 20 فیصد سے زائد طویل فاصلے کے جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائلز (JASSM)، اور قریباً 20 فیصد SM-3 اور SM-6 میزائلز بھی استعمال کیے ہیں۔
امریکی میزائل ذخائر میں 'نمایاں کمی' آئی ہے، مستقبل میں یہ صورتحال سنگین بن سکتی ہے: رپورٹ
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ فوج کے پاس صدر کے منتخب کردہ وقت اور مقام پر کارروائی کرنے کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔ / Reuters

سسی این این نے منگل کو رپورٹ کیا کہ ایران میں جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے اہم میزائل کے ذخیرے کو 'نمایاں حد تک کم' کر دیا ہے اور مستقبل کے کسی تنازع میں قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے ایک نئے تجزیے کے مطابق سات ہفتوں کی جنگ میں امریکی فوج نے اپنی پریسیژن اسٹرائیک میزائلز کا تقریباً 45 فیصد، کم از کم آدھے THAAD انٹرسیپٹرز، اور پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائلز کا تقریباً 50 فیصد استعمال کیا ہے۔

رپورٹ نے کہا کہ یہ اعداد و شمار خفیہ پینٹاگون کے اندازوں کے کافی قریب ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی فوج نے تقریباً 30 فیصد ٹومہاک میزائلز، 20 فیصد سے زائد طویل فاصلے کے جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائلز (JASSM)، اور قریباً 20 فیصد SM-3 اور SM-6 میزائلز بھی استعمال کیے ہیں۔

اگرچہ پینٹاگون نے سال کے اوائل میں میزائل کی پیداوار بڑھانے کے لیے معاہدے کیے ہیں، رپورٹ کا کہنا ہے کہ ان سسٹمز کی بحالی، پیداواری صلاحیت میں اضافے کے باوجود، تین سے پانچ سال لے گی۔

رپورٹ کے مطابق قریبی مدت میں اگر نازک جنگ بندی ناکام ہو گئی تو امریکی فوج کے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ممکنہ طور پر کافی گولہ بارود موجود ہوگا۔

تاہم رپورٹ نے نشاندہی کی ہے کہ کلیدی ہتھیاروں کے ذخائر اب چین جیسے قریب ہم منصب دشمن کے ساتھ تنازع کے لیے ناکافی ہیں، اور انہیں جنگ سے پہلے کی سطح تک بحال کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔

ریٹائرڈ امریکی میرین کور کرنل اور CSIS رپورٹ کے ایک مصنف مارک کینشیَن نے سی این این کو بتایا کہ 'زیادہ گولہ بارود کے استعمال نے مغربی بحر الکاہل میں کمزور پن کی ایک کھڑکی پیدا کر دی ہے۔'

انہوں نے کہا، 'ان ذخائر کی تلافی میں ایک سے چار سال لگیں گے اور انہیں مطلوبہ سطح تک بڑھانے میں اس کے بعد کئی سال درکار ہوں گے۔'

پینٹاگون کے چیف ترجمان شون پارنل نے سی این این کو ایک بیان میں کہا کہ فوج 'صدر کے منتخب کردہ وقت اور مقام پر کارروائی انجام دینے کے لیے جو کچھ بھی درکار ہے وہ سب موجود ہے۔'

دریافت کیجیے
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:یسرائیل کاتز
گولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے:ترکیہ
آسٹریلیا: بونڈی بیچ دعوے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات جمع کر لئے گئے
زمبابوے میں مسافر فیری کے الٹنے سے کم  از کم 15 افراد ہلاک
بیجنگ نے موسلادھار بارشوں کے باعث بس سروسز معطل کر دیں، سیاحتی علاقوں کو بند کر دیا
"عالمی ریڈ کراس کا تعاون " غزہ میں تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا آغاز
ایران: دشمن ممالک کے جہازوں کو اجازت لینا پڑے گی
بحرین نے پاکستان کو ترکیہ، سعودی عرب کے ساتھ سہ فریقی  دفاعی معاہدے پر مبارکباد دی
ایرانی وزیر خارجہ: "ہم  نے جنگ اور سیاست دونوں میں فتح حاصل کی ہے۔"
غزہ میں فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے: اقوام متحدہ
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں 7 افراد ہلاک، علاقے میں حملوں میں شدت آئی ہے
اسرائیل نے تقریباً 650 مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا
روس کا کیف پر حملہ،5 افراد ہلاک،متعدد زخمی
عراق نے  60 لاکھ اسلحے کے اندراج کے لیے ڈیٹا بیس تیار کرلیا
"ڈرون میزائل دھماکہ " مولدووا نے روس سے اپنا سفیر واپس بلالیا