ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
ترکیہ صدارتی محکمہ مواصلات کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات ہفتے کے روز طے پائی جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کا جائزہ لیا۔
مذاکرات میں صدر اردوعان نے کہا ہےکہ "خاص طور پر دفاعی صنعت" سمیت تمام شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانا دونوں ممالک کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
صدر اردوعان نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں سے شروع ہونے والے عمل نے عالمی ماحول پر منفی اثرات مرّتب کئے ہیں۔ تاہم ترکیہ اور دیگر ممالک کی حمایت یافتہ سفارتی کوششوں نے جنگ بندی کے حصول میں "اہم کردار" ادا کیا ہے۔
انہوں نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں میں انقرہ کے تعاون جاری رکھنےکے عزم کا اظہار کیا اور خاص طور پر لبنان پر حملوں کے تناظر میں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جو "جنگ بندی کے عمل کو سبوتاژ" کر سکتے ہوں۔
صدر اردوعان نے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کی اہمیت کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں حاصل ہونے والی رفتار کو "ضائع نہیں ہونا چاہیے"۔
دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے، شام کی صورتحال، کاکیشیا میں امن کی حمایت اور یوکرین ۔ روس پائیدار امن کے لیے مذاکرات کی بحالی کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔












