غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں نے ماہِ رمضان کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے جنوب میں واقع گاؤں 'سوسیا' میں فلسطینیوں کے گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
البیدار انسانی حقوق تنظیم نے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ آبادکاروں نے پانچ گھروں اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
بیان کے مطابق آبادکاروں نے گاؤں پر چھاپہ مارا اور املاک کو نقصان پہنچایا اور خاص طور پر عورتوں اور بچوں کو ہراساں کیا۔
مقامی ذرائع کی اناطولیہ خبر ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق غیر قانونی آبادکاروں نے بعض گھروں کے اندر آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے جس کے نتیجے میں چار افراد کو دم گھٹنے کی شکایت کا سامنا کرنا پڑا۔
گاؤں کے محل وقوع کے علاقے 'مسافر یطا 'کی آبادیوں کو ایک تواتر سے اسرائیلی غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ یہ آبادکار گھروں پر حملے کرتے اور فلسطینیوں کے مویشی چرا لیتےہیں۔علاقے کے رہائشی متعدد دفعہ تحفظ اور آبادکاروں کی پُرتشدد کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر چُکے ہیں ۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد
اکتوبر 2023 میں غزّہ میں نسل کُشی شروع ہونے کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آبادکاروں کے حملے شدت اختیار کر گئے ہیں۔
فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل، مقبوضہ مغربی کنارے میں 1,116 سے زائد فلسطینیوں کو قتل، 11,500 سے زائد کو زخمی اور 22,000 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر چُکا ہے۔
فلسطینیوں نے خبردار کیا ہے کہ حملوں اور قتل و غارت گری میں اس شدّت کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے کے، اسرائیل کے ساتھ، باقاعدہ الحاق کے لئے زمین تیار کرنا اور اس طرح اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بیان کردہ فلسطینی ریاست کے امکان کو عملاً ختم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ ، مغربی کنارے کو کہ جس میں مشرقی القدس بھی شامل ہے، فلسطین کی زیرِ قبضہ زمین کے طور پر دیکھتے ہیں اور علاقے میں موجود اسرائیلی بستیوں کوبین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے جولائی 2024 میں ایک مثالی رائے میں اسرائیل کے فلسطینی علاقے پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیا اور مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی القدس کی تمام بستیوں کی خالی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔












