سیاست
2 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ایران کے ساتھ فائر بندی معاہدے میں توسیع کی ضرورت ہو گی
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ تنازعہ یا تو بات چیت کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے یا ایسی عسکری کارروائی سے جو ایران کی صلاحیتوں کو ختم کر دے،
ٹرمپ: میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ایران کے ساتھ فائر بندی معاہدے میں توسیع کی ضرورت ہو گی
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازعہ کا خاتمہ یا تو مذاکراتی معاہدے سے ہو سکتا ہے یا پھر ایسی فوجی کارروائی سے جو تہران کی صلاحیتوں کو ختم کر دے۔ / Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی کی مدت  میں توسیع کرنے پر غور نہیں کر رہے، اور تنازعے میں جسے وہ فیصلہ کن لمحہ قرار دے رہے ہیں، وہ قریب آ سکتا ہے۔

اے بی سی نیوز کے جوناتھن کارل کے مطابق، بدھ کو ٹرمپ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اضافی مدت  کی ضرورت پڑے گی اور انہوں نے 'شاندار دو دن آنے والے ہیں' کی طرف اشارہ کیا، جس نے ایک بڑی پیش رفت یا پھر کشیدگی میں اضافے کی توقعات کو بڑھا دیا ہے۔

ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ تنازعہ یا تو بات چیت کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے یا ایسی عسکری کارروائی سے جو ایران کی صلاحیتوں کو ختم کر دے، لیکن انہوں نے کہا کہ وہ ایسے معاہدے کو ترجیح دیں گے  جس سے ملک کی ازسر نو نشاط  ممکن ہو۔

ٹرمپ کا بیان کچھ یوں تھا:'یہ دونوں طرح ختم ہو سکتا ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ معاہدہ بہتر  ہو گاکیونکہ پھر اس طرح انہیں دوبارہ تعمیر کر سکنے کا موقع ملے گے۔ قطعِ نظر اس کے کہ ہم نے انتہا پسندوں کو ختم کر دیا ہے،   ان کی حکومت اب واقعی میں مختلف  ہے۔'

انہوں نے اپنی عالمی کردار کے بارے میں بھی وسیع دعوے کیے اور کہا کہ ان کی قیادت کے بغیر دنیا کہیں زیادہ بد تر حالات سے دو چار  ہوتی۔

بڑی  سودا بازی

یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب امریکہ ایک وسیع سفارتی نتیجے کے لیے زور دے رہا ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے اس سے قبل کہا تھا کہ واشنگٹن محدود معاہدے کے بجائے ایک جامع معاہدہ چاہتا ہے، انہوں نے جاری مذاکرات کو ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا۔ یہ نازک جنگ بندی اسی پس منظر میں ہے اور ہفتے کو ایران کے ساتھ  اسلام آباد میں  ہونے والی براہِ راست بات چیت کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکی —یہ جنگ بندی اب تقریباً ایک ہفتے کے قریب پہنچ رہی ہے۔

وینس نے کہا کہ ٹرمپ ایک 'بڑے سودے' کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں ایران کو معاشی معمول پر لانے کی پیشکش کی جائے گی اگر وہ   معمول کے ممالک جیسا  موقف اختیار کرتا ہے۔