امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ "مکمل تباہی سے پہلے کی مہلت تیزی سے ختم ہو رہی ہے"۔
ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "وقت انتہائی اہم ہے"۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ بندی شرائط قبول کروانے کے لیے تہران پر امریکی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی مطالبات میں جوہری مواد کی افزودگی بند کرنا، ایرانی تنصیبات میں موجود افزودہ یورینیم کو امریکی حکام کے حوالے کرنا اور آبنائے ہُرمز کو بحری ٹریفک کے لیے کھولنے کی یقین دہانی شامل ہیں۔
28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے شروع ہونے سے خطے میں کشیدگی شدت اختیار کر گئی تھی ۔ حملوں کے بعد تہران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہُرمز کو بند کر دیا تھا۔
پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی مستقل معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے۔ بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کر دی تھی۔
اگرچہ جنگ بندی جاری ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس پر دباو میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ پیر کے روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے تازہ جنگ بندی تجویز کو "ناقابل قبول" قرار دے کر مسترد کرنے کے بعد یہ عمل "انتہائی نازک مرحلے" میں داخل ہو چکا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں، ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین کے دوران بھی اہم مذاکراتی موضوعات میں شامل رہیں۔
وائٹ ہاوس کی جانب سے اتوار کی شب جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ اس بات پر متفق ہیں کہ ایران "جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا"۔ دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھولنے پر زور دیا اور اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ کسی بھی ملک یا ادارے کو ہُرمز سے "داخلہ و خروج اُجرت لینے" کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اس "جنگ" کو دوبارہ شروع کیا تو اسے ایسے شدید معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جن سے بصورت دیگر بچا جا سکتا تھا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے اختتام پر کہا ہے کہ "پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور اسٹاک مارکیٹ کو ایک طرف رکھیں۔ اصل تکلیف اُس وقت شروع ہوگی جب امریکی قرضوں اور ہاؤسنگ مارگیج کی شرحِ سود بڑھنا شروع ہو جائے گی۔"











