اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ "ہم، بھارت سمیت بعض علاقائی و عالمی ممالک پر مشتمل ایک 'ہیکساگون بلاک' پر کام کر رہے ہیں"۔
بروز سوموار کنیسٹ سے خطاب میں نیتن یاہو نے کہا ہےکہ ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے اسرائیل "پیچیدہ اور بہت مشکل" دور کا سامنا کر رہا ہے اور اس دوران ہم ایک نئے اسٹریٹجک بلاک پر بھی کام کر رہے ہیں ۔ یہ چھ رکنی بلاک بھارت، بعض علاقائی ممالک اور عالمی اتحادیوں پر مشتمل ہو گا۔
نیتن یاہو نے تہران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اشارہ دیا اور کہا ہے کہ "یہ دن قوم کی زندگی کو متاثر کرنے والے دن ہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا"۔
نیتن یاہو نے ممکنہ تصادم کی تیاری کے دوران سیاسی اِتفاق کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا ہےکہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے " سخت جواب" کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایسا کر کے وہ "اپنی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی" کرے گا۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو نے، وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز، مسلح افواج کے سربراہ ایال زمیر، موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنی اور فوجی خبر رسانی کے سربراہ شلومی بندر کی شرکت سے، محدود پیمانے کا سکیورٹی مشاور اجلاس کیا ہے۔
عوامی نشریاتی ادارے KAN نے کہا ہےکہ اسرائیل، ایران پر ممکنہ امریکی حملے سے منسلک منظرناموں کے لئے تیار ہو رہا ہے ۔ ان منظر ناموں میں حملے کے ابتدائی گھنٹوں میں واشنگٹن کے اسرائیلی کاروائیوں پا پابندیاں لگانے کا احتمال بھی شامل ہے۔
اسی خبر میں کہا گیا ہے کہ اگر ایران تل ابیب کی طرف بیلسٹک میزائل داغے تو اسرائیل کو فوری جواب دینے کے لیے "امریکی سبز اشارہ" مل جائے گا۔
چینل 12 نے کہا ہےکہ جنیوا میں طے پانے والے اگلے امریکہ۔ایران مذاکرات ایک نازک موڑ ہیں۔
امریکہ نے، ایران کے جوہری و میزائل پروگراموں پر ممکنہ حملوں کی خبروں کے دوران علاقے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایندھن بھرنے والے امریکی طیارے تل ابیب کے نزدیک بین گوریون ائیرپورٹ پر اُتر گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی جنگی کابینہ نے ، ایران کے ساتھ جنگ کے خطرے کا جائزہ لینے کے لیے، بروز اتوار تین گھنٹوں سے زیادہ طویل اجلاس کیا تھا۔
ہیکساگون اتحاد کا تصور
علاقائی کشیدگی کے دوران نیتن یاہو نے بھارت اور دیگر ریاستوں کے ساتھ قریبی تعاون کے لئے ایک وسیع سفارتی منصوبہ بھی پیش کیا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی ہےکہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی بدھ کو اسرائیل کا دورہ کریں گے اور کینسٹ سے خطاب کریں گے۔
نتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس کے افتتاحی موقع پر کہا ہے کہ "رشتوں کا دھاگہ مزید مضبوط ہوا ہے۔ مودی یہاں آ رہے ہیں تاکہ ہم اسے مزید مضبوط کر سکیں"۔
انہوں نے معاشی، سفارتی اور سکیورٹی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی طرف اشارہ کیا اور کہا ہے کہ" اسرائیل ایک پورا نظام بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ نظام بنیادی طور پر ایک قسم کا ہیکساگون اتحاد ہےجو مشرقِ وسطیٰ کے اندر یا اس کے ارد گرد ہو گا"۔
نتن یاہو کے مطابق، مجوزہ فریم ورک میں بھارت، یونان اور جنوبی قبرصی یونانی انتظامیہ کے ساتھ دیگر ممالک بھی شامل ہوں گے۔ ہمارا مقصد ایسی ریاستوں کی ایک ترتیب قائم کرنا ہے جو مماثل اسٹریٹجک اندازوں کی حامل ہوں گی۔
نتن یاہو نے "انتہا پسند شعیہ محور" اور "انتہا پسند سُنّی محور" کی طرف اشارہ کیا اور کہا ہے کہ "ہمارا مقصد ایسی قوموں کا ایک محور بنانا ہے جو متعصب محوروں کے مقابل حقیقت پسند ہوں اور مسائل اور اہداف کے بارے میں ایک جیسا نظریہ رکھتی ہوں"۔
دونوں رہنماتنقید کی زد میں
نتن یاہو اور مودی دونوں ہی اندرون ملک اور بیرونِ ملک تنقید اور شدید نگرانی کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس وقت بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے، غزّہ میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم کی وجہ سے، نیتن یاہو کے وارنٹِ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں ، غزہ میں عسکری کارروائیوں کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف ایک اور نسل کشی مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے۔
دوسری جانب ، غزہ میں نسل کشی کے دوران بھارت کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی اور ٹیکنالوجی تعاون کی وجہ سے، مودی کو بھی حقوقِ انسانی گروپوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔
بھارت، اسرائیلی اسلحے کا ایک بڑا خریدار ہے اور اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹر فرانسسکا البانیز نے کہا ہے کہ بھارت ، نسل کُشی جنگ کے دوران اسرائیل کو اسلحہ و بارود برآمد کرنے والے ممالک میں شامل تھا۔
امریکہ میں قائم گروپ 'سلام' کی ایک تازہ رپورٹ نے کہا ہے کہ بھارتی کمپنی 'میٹ ٹیٹا گروپ' اسرائیل کی دفاعی رسدی زنجیر کے ساتھ گہرائی سے منسلک ہے۔رپارٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کمپنی کے ماتحت ادارے اسرائیل کو محارب جیٹ طیاروں، میزائل سسٹموں اور نگرانی انفراسٹرکچر میں استعمال ہونے والے اجزاء فراہم کرتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارت کا دفاعی تعاون نئی دہلی کو غزہ کے تنازعے میں الجھا سکتا ہے جبکہ مودی حکومت کا موقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات، سلامتی اور ٹیکنالوجی پر مبنی، طویل المدتی اسٹریٹجک تعاون کا حصہ ہیں ۔
مودی نےبھی جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ دورے کے دوران مذاکرات کے بے صبری سے منتظر ہیں ۔ بھارت ، اسرائیل کے ساتھ، اعتماد، جدت اور امن و ترقی کے مشترکہ عزم پر مبنی، دیرپا دوستی کو بہت اہمیت دیتا ہے"۔
واضح رہے کہ مودی نے 2017 میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ کسی بھارتی وزیرِ اعظم کا پہلا دورہ اسرائیل تھا۔ 2018 میں نیتن یاہو نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔











