ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ، نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں: فیدان
صدر ڈونلڈ ٹرمپ 7 تا 8 جولائی کو انقرہ میں متوقع نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں: وزیر خارجہ حاقان فیدان
ٹرمپ، نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں: فیدان
ٹرمپ کا جولائی میں انقرہ میں سربراہی اجلاس میں شرکت کا منصوبہ ہے۔ / تصویر: اے اے آرکائیو

ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 7 تا 8 جولائی کو انقرہ میں متوقع نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پیر کے روز دورہ سنگاپور کے دوران بلومبرگ ٹی وی کے لئے  انٹرویو کے دوران اس سوال کے جواب  میں کہ کیا  ٹرمپ،  انقرہ میں متوقع  نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے؟ فیدان نے کہا تھا کہ "جہاں تک ہماری معلومات ہیں، وہ شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں"۔

فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے گزشتہ ماہ ٹرمپ کے ساتھ متعدد ٹیلیفونک ملاقاتیں کیں اور امریکی صدر نے ہر بار اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

فیدان نے ، سیاسی بیانات کے باوجود امریکہ کے نیٹو اتحاد کے ساتھ  وابستگی برقرار رکھنے کے پہلو پر زور دیا اور کہاہے کہ واشنگٹن کے نیٹو سے انخلاء سے متعلقہ بیانات کو عملی جامہ پہنانے کا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "امریکہ مسلسل اپنے اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں اور اپنی سلامتی کی خاطر  زیادہ ذمہ داریاں اٹھائیں۔ یورپی ممالک نے یہ پیغام سمجھ لیا  اور اپنے نیٹو دفاعی بجٹ بڑھانے کے لیے پہلے ہی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ جب رہنما اکٹھے ہوں گے تو ہم حاصل شدہ پیش رفت کا جائزہ لیں گے"۔

فیدان نے امریکہ۔ ایران مذاکرات کے ساتھ انقرہ کی حمایت کا اعادہ کیااور کہا ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کی مدّت میں اضافے کے لیے "مخلصانہ" کوششیں کر رہے ہیں ۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے باوجود لبنان کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حملے ایک اہم خطرہ ہیں اور مذاکرات کو نقصان پہنچانے  کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ "مجھے یقین ہے کہ امریکی اور ایرانی دونوں سنجیدہ اور مخلص ہیں۔ وہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں لیکن مجھے اسرائیل کے ارادوں کے بارے میں یقین نہیں ہے"۔

واضح رہے کہ فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تہران نے جوابی کارروائی کے طور پر آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی اور خلیجی خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے اتحادیوں کو نشانہ بنا کر حملے کئے ہیں۔

پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی 8 اپریل کو نافذ ہوئی، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران مستقل معاہدے تک نہیں  پہنچا جا سکا۔

اس کے بعد سے دونوں فریق براہِ راست مذاکرات کی بحالی اور تنازعے کے خاتمے کے زیرِ مقصد  تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دریافت کیجیے
امریکہ میں، 75 ممالک کے شہریوں پر عائد کردہ امیگرینٹ ویزے پر پابندی کالعدم قرار
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں  ایک نئی فوجی کارروائی
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے قصرہ میں تین فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت