ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 7 تا 8 جولائی کو انقرہ میں متوقع نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پیر کے روز دورہ سنگاپور کے دوران بلومبرگ ٹی وی کے لئے انٹرویو کے دوران اس سوال کے جواب میں کہ کیا ٹرمپ، انقرہ میں متوقع نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے؟ فیدان نے کہا تھا کہ "جہاں تک ہماری معلومات ہیں، وہ شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں"۔
فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے گزشتہ ماہ ٹرمپ کے ساتھ متعدد ٹیلیفونک ملاقاتیں کیں اور امریکی صدر نے ہر بار اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
فیدان نے ، سیاسی بیانات کے باوجود امریکہ کے نیٹو اتحاد کے ساتھ وابستگی برقرار رکھنے کے پہلو پر زور دیا اور کہاہے کہ واشنگٹن کے نیٹو سے انخلاء سے متعلقہ بیانات کو عملی جامہ پہنانے کا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "امریکہ مسلسل اپنے اتحادیوں پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں اور اپنی سلامتی کی خاطر زیادہ ذمہ داریاں اٹھائیں۔ یورپی ممالک نے یہ پیغام سمجھ لیا اور اپنے نیٹو دفاعی بجٹ بڑھانے کے لیے پہلے ہی اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔ جب رہنما اکٹھے ہوں گے تو ہم حاصل شدہ پیش رفت کا جائزہ لیں گے"۔
فیدان نے امریکہ۔ ایران مذاکرات کے ساتھ انقرہ کی حمایت کا اعادہ کیااور کہا ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی کی مدّت میں اضافے کے لیے "مخلصانہ" کوششیں کر رہے ہیں ۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی کے باوجود لبنان کے جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی حملے ایک اہم خطرہ ہیں اور مذاکرات کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ "مجھے یقین ہے کہ امریکی اور ایرانی دونوں سنجیدہ اور مخلص ہیں۔ وہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں لیکن مجھے اسرائیل کے ارادوں کے بارے میں یقین نہیں ہے"۔
واضح رہے کہ فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ تہران نے جوابی کارروائی کے طور پر آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی اور خلیجی خطے میں اسرائیل اور امریکہ کے اتحادیوں کو نشانہ بنا کر حملے کئے ہیں۔
پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی 8 اپریل کو نافذ ہوئی، تاہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران مستقل معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔
اس کے بعد سے دونوں فریق براہِ راست مذاکرات کی بحالی اور تنازعے کے خاتمے کے زیرِ مقصد تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

















