ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
غزہ کو تسلیم کرنا اور اسرائیل کی جرائم کا انکشاف ایک منصفانہ دنیا کا اشارہ ہے، ترکیہ
ترکیہ اور اٹلی نہ صرف بحیرہ روم کے ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ نیٹو کے اتحادی اور جی 20 کے شراکت دار بھی ہیں۔
غزہ کو تسلیم کرنا اور اسرائیل کی جرائم کا انکشاف ایک منصفانہ دنیا کا اشارہ ہے، ترکیہ
فدان نے ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کیلئے اٹلی کی حمایت کی تعریف کرتے ہوئے، بلاک کے خارجہ پالیسی چیلنجز اور روم کے کردار کو یورپی یونین اور ترکی کے تعلقات کو ازسر نو قائم کرنے میں اجاگر کیا۔ / AA

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے جمعہ کے روز عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ میں موجود حقائق کو تسلیم کرے اور انسانیت کے خلاف جرائم پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے۔

فیدان نے یہ بات روم میں قائم اٹلی کے اہم تھنک ٹینکس میں سے ایک انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے کانفرنس میں موجودہ بین الاقوامی حالات کا جائزہ لیا اور سوالات کے جوابات دیے۔

فیدان نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ اور اٹلی نہ صرف بحیرہ روم کے ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ نیٹو کے اتحادی اور جی 20 کے شراکت دار بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک بحیرہ روم اور افریقہ میں استحکام کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "ترکیہ اور اٹلی کی شراکت داری عقاب کے پروں کی طرح بحیرہ روم اور شمالی افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ وقتی اتحاد نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک تعلق ہے جو مشترکہ تاریخ، جغرافیہ اور مستقبل پر مبنی ہے۔"

فیدان نے کہا کہ عالمی تبدیلیوں کے اس دور میں ترکیہ اور اٹلی کا تعاون پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے اور دونوں ممالک کے پاس خطے اور اس سے آگے کے حالات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔

انہوں نے اٹلی کو ترکیہ کے اہم اقتصادی شراکت داروں میں سے ایک قرار دیا اور دفاع، صنعت، توانائی، سائنس اور رابطے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی صلاحیت پر زور دیا۔

وزیر خارجہ نے نیٹو میں ترکیہ کے کردار اور اٹلی کے ساتھ مشترکہ مشقوں، بشمول دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور انٹیلیجنس کے تبادلے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب ایردوان اور اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے وژن کے تحت افریقہ میں تعاون کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

فیدان نے ترکیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کی حمایت پر اٹلی  کا شکریہ ادا کیا اور  یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیلنجز اور ترکیہ-یورپی یونین تعلقات کی تجدید میں روم کے کردار کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ یورپ کے استحکام کے لیے ترکیہ کی یورپی یونین میں موجودگی ضروری ہے اور اٹلی کے ساتھ مل کر بحیرہ روم اور شمالی افریقہ میں قیادت کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں نقل مکانی ، افریقہ میں سرمایہ کاری اور بین الاقوامی نظام میں اصلاحات شامل ہیں۔

فیدان نے کہا کہ غزہ اس ماہ کے آخر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ایجنڈے میں شامل ہوگا۔

انہوں نے کہا"غزہ بین الاقوامی برادری کے لیے صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنے کا اصل امتحان ہے۔ غزہ میں حقیقت کو تسلیم کرنا اور اسرائیل کے انسانیت کے خلاف جرائم کو بے نقاب کرنا ایک منصفانہ دنیا کی طرف پہلا قدم ہے،" ۔

انہوں نے مزید کہا، "اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ ہم تمام ضمیر کے مالک ممالک کو انسانیت کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے متحرک کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں اٹلی کی واضح حمایت  ہمیشہ  سے زیادہ اہم ہوگی۔"

 

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"