سیاست
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ خانہ جنگی چاہتے ہیں: گیون نیوسم
لاس اینجلس میں 2,000 اضافی فوجی گارڈوں کی تعیناتی غیر ذمہ دارانہ اور بے مقصد کاروائی ہے اور ہمارے فوجیوں کی توہین ہے: نیوسم
ٹرمپ خانہ جنگی چاہتے ہیں: گیون نیوسم
Newsom says US Marines shouldn't face their own countrymen. / Reuters

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ لاس اینجلس میں امیگریشن مظاہروں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تنازعے کے دوران "گلیوں میں خانہ جنگی" کے خواہش مند  ہیں۔

نیوسم نے پیر کے روز فاکس نیوز کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ  "ان کا مقصد امن قائم کرنا  نہیں جنگ  کروانا ہے۔ وہ گلیوں میں خانہ جنگی کے خواہشمند ہیں۔"

نیوسم نےسوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ  بیان میں کہا  ہےکہ "مجھے موصول  اطلاع کے مطابق  ٹرمپ لاس اینجلس میں مزید 2,000 گارڈوں کی تعیناتی کر رہے ہیں۔

نیوسم نے کہا ہے کہ "  پہلے 2,000کا کیا ہو ا؟ نہ کھانے کا انتظام ہے نہ پانی کا۔ تقریباً 300 کی تعیناتی ہوئی ہے  باقی تعیناتی کے حکم کے  منتظر وفاقی عمارتوں میں بیٹھے ہیں۔ ان تعیناتیوں کا عوامی تحفظ سے کوئی تعلق  نہیں ہے۔ ان کا مقصد  ایک خطرناک صدر کی انا کی تسکین ہے۔"

انہوں نے مزید کہا ہے کہ "یہ غیر ذمہ دارانہ اور بے مقصد کاروائی ہمارے فوجیوں کی توہین  ہے۔"

لاس اینجلس میں 700 امریکی میرین کی تعیناتی  کے اعلان کے بعد جاری کردہ بیان میں  نیوسم نے کہا  ہے کہ یہ تعیناتی "غیر امریکی" ہے۔

نیوسم نے X سے جاری کردہ بیان میں  کہا ہے کہ "ایک آمر صدر کے مریضانہ خیالات کی تسکین کے لئے ان میرین کو امریکی زمین پر  اور اپنے ہی ہم وطنوں کے سامنے تعینات نہیں ہونا چاہیے ۔میں خانہ جنگی نہیں چاہتا"۔

ٹرمپ نے جاری کردہ جوابی بیان میں" امریکہ کی  گلیوں میں خانہ جنگی کے خواہش مند ہونے" کی تردید کی اور کہا ہے کہ "اگر نیوسم پر چھوڑ دیا جائے تو خانہ جنگی ہو سکتی ہے"۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ " یہ  الزام بالکل اس کے برعکس ہے۔ میں خانہ جنگی نہیں چاہتا لیکن اگر آپ اس پہلو کو  نیوسم جیسے  لوگوں پر چھوڑ دیں تو خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔"

قبل ازیں جاری کردہ بیان میں  وائٹ ہاؤس نے لاس اینجلس کے مظاہرین کو "انتہائی بائیں بازو کے پاگل" قرار دیا اور کہا  تھا کہ نیوسم اور میئر کیرن باس کو امیگریشن چھاپے شروع کرنے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔

لاس اینجلس میں بدامنی گزشتہ جمعہ کو شروع ہوئی جب امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایجنٹوں نےشہر کے کئی علاقوں پر چھاپے مارے اور، غیر قانونی طور پر امریکہ میں اقامت  کے دعوے کے ساتھ،  سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا  ہےکہ ICE کے چھاپے صدر کے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن کے منصوبے کا حصہ ہیں اور یہ جاری رہیں گے۔

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک