دنیا
3 منٹ پڑھنے
بنگلہ دیش کے کیمپوں میںمقیم مسلمانوں نے میانمار میں محفوظ واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا
میانمار میں آراکان مسلمانوں کے خلاف تشدد، ظلم و ستم کے آغاز کی نویں برسی کے موقع پر  بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم  ہزاروں افراد نے کوکس بازار کے علاقے میں احتجاج کیا۔
بنگلہ دیش کے کیمپوں میںمقیم مسلمانوں نے میانمار میں محفوظ واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا
بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں نے میانمار محفوظ واپسی کے مطالبے کے لیے مظاہرہ کیا۔

بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں  نے، نو سال قبل ظلم و ستم سے فرار ہو کر آنے والے میانمار کی جانب محفوظ واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ کیا۔

میانمار میں آراکان مسلمانوں کے خلاف تشدد، ظلم و ستم کے آغاز کی نویں برسی کے موقع پر  بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم  ہزاروں افراد نے کوکس بازار کے علاقے میں احتجاج کیا۔

مظاہرین نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے میانمار کے آرکان صوبے کو محفوظ طریقے سے واپس جانے کا اہتمام کیا جائے۔

دوسری طرف، برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان، کوسوو، ہالینڈ، ناروے، اسپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں موجود سفارت خانوں نے روہنگیا مسلمانوں کی صورتِ حال کے بارے میں مشترکہ بیان جاری کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ آرااکان میں انسانی امداد کی ضرورت بڑھ گئی ہے، شہری بنیادی ڈھانچے پر فضائی حملے جاری ہیں اور صورتحال تشویشناک ہے، نیز اس بات پر زور دیا گیا کہ آرکان کے مسلمانوں کو میانمار واپس جانے کا حق حاصل ہے۔

آراکان مسلمانوں کی میانمار واپسی کے لیے اقدامات

ملیشیا ئی  وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے جولائی میں کہا تھا کہ میانمار پہلے روہنگیا مسلمانوں کو قبول کرنے میں رغبت نہیں رکھتا تھا، مگر دونوں ممالک کے درمیان "اچھے تعلقات" کی بدولت اس معاملے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

انور نے بتایا کہ نیپیدو انتظامیہ ابتدائی مرحلے میں ملائشیا میں موجود تقریباً پانچ ہزار روہنگیا مسلمانوں کی واپسی قبول کرے گی، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ کب عمل میں آئے گا۔

میانمار کی وزارتِ خارجہ نے 17 اگست کو ایک بیان میں کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مقیم 3 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کو “سیکورٹی حالات بہتر ہونے پر” وطن واپس آنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

بیان میں روہنگیا مسلمانوں کو “بنگلہ دیشی” کہا جانا بھی تنقید کا باعث بنا۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسلی صفائی

میانمار کے آراکان صوبے میں 2012 میں بدھ متوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں، جہاں متاثرین میں اکثریت مسلمان تھی، ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے اور سینکڑوں گھر اور کاروبار نذرِ آتش کر دیے گئے۔

آراکان کے سرحدی چوکیوں پر 25 اگست 2017 کو کیے گئے ہمہ وقت  حملوں کو بہانہ بنا کر میانمار کی فوج اور بدھ نسلی قوم پرستوں نے وسیع پیمانے پر تشدد کا آغاز کیا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق، اگست 2017 کے بعد آراکان میں ظلم و ستم سے بچ کر بنگلہ دیش پناہ لانے والوں کی تعداد 9 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شائع کردہ سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے سینکڑوں گاؤں کی تباہی کے شواہد پیش کیے۔

اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیمیں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو"نسلی صفائی" یا "نسل کشی" قرار دیتی ہیں۔

دریافت کیجیے
ترکیہ نے سویٹزرلینڈ کو پہلی سی ای وی یورپی چیمپئن شپ میں ہرا دیا
9 یورپی ممالک نے ہوائی اڈوں پر شدید رش  کے باعث داخلی اور خارجی چیکنگ کو ملتوی کر دیا
اسرائیلی فلم سازوں کی شہریت منسوخ کروادوں گا:اسرائیلی وزیر
اسرائیلی وزیر دفاع کی جنوبی لبنان کے پہاڑوں کی طرف رخ کرنے والوں کو 'ختم کرنے' کی دھمکی
ایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
اسرائیل نے ڈرون حملہ کر کے دو فلسطینیوں کو قتل اور 13 کو زخمی کر دیا
فلسطین: ہم برکس کے اعلامیے کا خیر مقدم کرتے ہیں
عراق: ڈرون لانچنگ پلیٹ فارم کو قبضے میں لے لیا گیا ہے
یوکرین کی طرف سے تاتارستان پر ڈرون حملے
ترکیہ: ہم، سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی مذّمت کرتے ہیں
شمالی قبرصی ترک جمہوریہ: امریکہ کا فیصلہ انتہائی  افسوسناک ہے
ترکیہ: ہم، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں
فرانس میں ٹرین حادثے کی تحقیقات ممکنہ طور پر سبوتاژ کے طور پر کی جا رہی ہیں
لبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
سعودی عرب: عراق سے تیل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بغداد اس واقع کی تحقیقات کر رہا ہے