امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک تجارتی جہاز پر تہران کے تازہ ترین حملے کے بعد ایران میں متعدد اہداف کے خلاف اضافی فضائی حملے کیے ہیں، جس کی تصدیق امریکی فوجی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کی ہے۔
سینٹکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ اس کی افواج نے یہ حملے 27 جون کو "کمانڈر ان چیف (امریکی صدر) کی ہدایت پر" کیے۔
بیان کے مطابق، یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب ایرانی افواج نے خودکش اٹیک ڈرون داغا جس نے صبح 4:30 بجے (ایسٹرن ٹائم) ایم/ٹی کیکو (M/T Kiku) نامی جہاز کو نشانہ بنایا۔ پاناما کے جھنڈے والا یہ ٹینکر اس وقت 2 ملین (20 لاکھ) بیرل سے زائد خام تیل لے کر آبنائے ہرمز کے قریب سے گزر رہا تھا۔
سینٹکام نے کہا، "آج سینٹکام کی افواج نے تجارتی جہاز رانی کے خلاف مسلسل ایرانی جارحیت کے براہ راست جواب میں یہ حملے کیے ہیں۔"
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی فوجی طیاروں نے ایرانی فوج کے نگرانی کے انفراسٹرکچر ، مواصلاتی نظام ، فضائی دفاعی مقامات، ڈرون اسٹوریج کی سہولیات اور بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا۔
کمانڈ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے، اور امریکی افواج "چوکنا، مہلک اور تیار" ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق، اتوار کی صبح جنوبی ایران کے شہر سیرک (Sirik) میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
نشریاتی ادارے نے ایک فوجی ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ میزائل یا گولے طہروئی گاؤں میں ایک ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر لگے۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے الگ سے رپورٹ کیا کہ جنوبی ایران میں جزیرہ قشم کے گاؤں میسین میں بھی ایک دھماکے کی آواز سنی گئی۔ ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں۔
امریکی فوجی سینٹرل کمانڈ CENTCOM نے اتوار کو ایران میں متعدد اہداف پر اضافی حملوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے تہران پر آبنائے ہرمز کے قریب تجارتی جہاز رانی کے خلاف مسلسل کارروائیوں کا الزام عائد کرنے کے بعد ایرانی فوج کے نگرانی کے انفراسٹرکچر، مواصلاتی نظام، فضائی دفاعی مقامات اور ڈرون سے متعلقہ تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔











