اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہےکہ لامین یامال نے فلسطینی پرچم لہرا کر اسپین کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
پیدرو سانچز نے بارسلونا فٹبال ٹیم کے اسٹار لامین یامال کی جانب سے چیمپئن شپ کی تقریبات کے دوران فلسطینی پرچم لہرائے جانے کو سراہا اور کہا ہے کہ یامال کے اس عمل پر اسپین کو "فخر ہے"۔
دوسری طرف اسرائیل نے لامین یامال پر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر دی اور انہیں "نفرت بھڑکانے" کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔
18 سالہ فارورڈ نے پیر کے روز بارسلونا میں اپنی ٹیم کی مسلسل دوسری لا لیگا چیمپئن شپ کی خوشی میں نکالی گئی اوپن بس پریڈ کے دوران فلسطینی پرچم لہرا کر توجہ حاصل کی۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو بارسلونا کے اس اسٹار کھلاڑی پر سخت تنقید کی اور کہا تھا کہ اس نے "اپنے ملک کے خلاف نفرت کو ہوا دی ہے" ۔
کاٹز نے ایکس سے ہسپانوی زبان میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ"مجھے امید ہے کہ بارسلونا جیسا عظیم اور معتبر کلب ان بیانات سے لاتعلقی ظاہر کرے گا اور واضح کرے گا کہ دہشت گردی کو بھڑکانے یا اس کی حمایت کی کوئی جگہ نہیں ہے"۔
دوسری جانب، غزہ میں اسرائیلی کاروائیوں کو "نسل کشی" قرار دینے والے اور اسرائیل پر کھل کر تنقید کرنے والے سانچز نے یامال کے دفاع میں اسرائیل کو جواب دیا ہے۔
وزیرِاعظم سانچز نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ"جو لوگ کسی ریاست کا پرچم لہرانے کو 'نفرت بھڑکانا' سمجھتے ہیں، وہ یا تو اپنی عقل کھو بیٹھے ہیں یا ندامت کے باعث اندھے ہو چکے ہیں۔ لامین نے صرف فلسطین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے جو لاکھوں ہسپانوی محسوس کرتے ہیں اور یہی اس پر فخر کرنے کی ایک اور وجہ ہے۔"
غزہ میں دیوار پر تصویر
فلسطینی مقصد کے ساتھ یامال کی حمایت، اسپین میں وسیع مقبولیت کے ساتھ ساتھ محصور غزہ میں بھی توجہ کا مرکز بنی ہے۔
ایک اے ایف پی نمائندے کے مطابق غزّہ کے تباہ شدہ علاقے کے ایک مہاجر کیمپ میں مصّوروں نے ملبے کی ایک دیوار پر بنائی گئی دیوار گیر تصویر میں یامال کو فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے دکھایا ہے۔
اگرچہ بارسلونا کے کوچ ہانسی فلیک نے یامال کے اس اقدام کے لئے ناپسندیدگی کا اظہار کیا لیکن کہا ہےکہ"اگر وہ یہی کرنا چاہتا ہے، تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے۔"
واضح رہے کہ2023 میں اسرائیل کی طرف سے غزہ پر مسّلط کردہ نسل کُشی کے بعد سے اسپین اور اسرائیل کے تعلقات شدید کشیدہ ہیں۔
2024 میں اسپین کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے کے بعد اسرائیل نے میڈرڈ سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور اسپین نے مارچ میں تل ابیب میں اپنے اعلیٰ ترین سفارتی نمائندے کا عہدہ باضابطہ طور پرختم کر دیا تھا۔











