روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا ہے کہ روس توقع نہیں کرتا کہ امریکہ اور یوکرین کے ساتھ سہ فریقی سربراہی اجلاس منعقد ہوگا، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان اس سال کے آخر میں دو طرفہ مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
روسی سرکاری ایجنسی 'تاس' سے بات کرتے ہوئے ریابکوف نے کہا کہ وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نیویارک کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا، " اس ملاقات کی تیاری کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ میرے خیال میں امکانات کافی زیادہ ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ کیف نے جولائی میں استنبول میں روس-یوکرین مذاکرات کے تیسرے دور کے دوران پیش کیے گئے سہ فریقی فارمیٹ کی روسی تجویز پر کوئی جواب نہیں دیا۔
مستقبل کا روس-امریکہ مشاورتی عمل جو سفارتی تنازعات کو حل کرنے کا مقصد رکھتا ہے ، ریابکوف نے کہا کہ یہ عمل کئی بار ملتوی ہو چکا ہے، اور یہ صرف لاجسٹک وجوہات کی بنا پر نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا، "ہم ٹھوس پیش رفت کے خواہاں ہیں نہ کہ ایک ہی جگہ پر کھڑے رہنے کے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو امید کرتا ہے کہ ایسے مذاکرات " موسم ِخزاں کے آخر تک" منعقد ہوں گے۔
ریابکوف نے واشنگٹن کے یوکرین کے حوالے سے رویے پر بھی تبصرہ کیا۔
انہوں نے کہا، "امریکی تجاویز میں سب کچھ قبول نہیں تا ہم مجموعی طور پر ہم انہیں عام فہم پر مبنی سمجھتے ہیں۔"
انہوں نے"شدید عسکریت پسند" کہتے ہوئے ان لوگوں پر تنقید کی جو روس کے ساتھ بات چیت کی مخالفت کرتے ہیں اور "روس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے" کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ "ان آوازوں کو دبا رہے ہیں جو زیادہ معقول اندازے لگا رہے ہیں۔"
انہوں نے کہا، "میں چاہتا ہوں کہ یورپی گروپ کا پیدا کردہ یہ جنونی شور واشنگٹن میں سنائی دینے والے ذی فہم موقف کو دھندلا نہ کردے۔"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپ کو روسی توانائی کی فراہمی کو امریکی برآمدات سے تبدیل کرنے کی اپیلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ریابکوف نے کہا کہ ایسی تجاویز میں "کچھ نیا نہیں" ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ روس کا شعبہ توانائی مقابلے کے لیے تیار ہے۔
ریابکوف نے اس بات پر زور دیا کہ کلیدی مسئلہ یہ ہے کہ آیا واشنگٹن تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم رہتا ہے کہ نہیں۔







