ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک میں موجود کسی بھی اسرائیلی شہری کو فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے گا۔
ملک کے جنوبی صوبے 'جوہور' میں ایک نجی کمپلیکس کی سرگرمیوں میں ایک اسرائیلی شہری کی موجودگی کے دعووں کے بعد وزیر اعظم انور ابراہیم نے آج بروز بدھ جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "متعلقہ ادارے ان الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو حکومت کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی "۔
انہوں نے کہا ہے کہ "اگر ہمیں کوئی اسرائیلی شہری ملتا ہے تو ہم اسے فوری طور پر ملک بدر کر دیں گے، کیونکہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔"
ملائیشیا اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا
ملائیشیا اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا، اس لیے اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کا خصوصی حکومتی اجازت کے بغیر ملائیشیا میں داخلہ ممنوع ہے۔
ملائیشیاوزارتِ داخلہ نے جوہور کی ریاستی حکومت کی طرف سے جوہور میں قائم کاروباری برادری ' نیٹ ورک اسکول' (Network School) سے متعلق الزامات پر وفاقی تحقیقات کا مطالبہ کئے جانے کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔
دوسری جانب ملک کے محکمۂ امیگریشن نے کہا ہےکہ فاریسٹ سٹی (Forest City) میں ایک بین الاقوامی کمیونٹی کے حوالے سے کیے گئے معائنے کے دوران تمام 266 غیر ملکی شہریوں کے پاس درست امیگریشن دستاویزات موجود تھیں۔
واضح رہے کہ فاریسٹ سٹی جوہور میں، سنگاپور کی سرحد کے قریب، مصنوعی جزیروں پر تعمیر کیا گیا ایک بڑا رہائشی و تجارتی منصوبہ ہے۔ اسے ایک بین الاقوامی رہائشی مرکز کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور یہ غیر ملکیوں کے لیے نہایت پُر کشش بن چکا ہے۔ اس منصوبے کو وقتاً فوقتاً امیگریشن اور ضابطہ کاری سے متعلق مسائل کے باعث جانچ پڑتال کا سامنا رہا ہے۔



















