دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکہ: کواڈ تعاون دوبارہ فعال کیا جائے
کواڈ، دنیا میں حالیہ پیش رفت کے باعث پہلے سے زیادہ مؤثر اور اہم ہو گیا ہے: مارکو روبیو
امریکہ: کواڈ تعاون دوبارہ فعال کیا جائے
نئی دہلی میں بھارت، جاپان، آسٹریلیا اور امریکہ کے اعلیٰ سفارت کاروں کا کواڈ اجلاس۔ / Reuters

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز نئی دہلی میں آسٹریلیا، بھارت اور جاپان کے ساتھ چہار فریقی اجلاس 'کواڈ 'کے دوران مشترکہ تعاون کو دوبارہ فعال بنانے کی اپیل کی ہے۔

 یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران جنگ کے باعث اختلافات رائے میں  اور خطے میں امریکی عزائم  پر سوالات میںاضافہ ہو رہا ہے۔

کواڈ  اجلاس امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران دونوں ممالک کی 'جی2' کے تحت کام کرنے کی صلاحیت کو سراہنے سے 10 دن بعد منعقد ہواہے۔ چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے پریشان امریکی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ یہ حکمتِ عملی انہیں پس منظر میں دھکیل سکتی ہے۔

نئی دہلی میں اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کے دوران روبیو نے کہا کہ "کواڈ، دنیا میں حالیہ پیش رفت کے باعث پہلے سے زیادہ مؤثر اور اہم ہو گیا ہے"۔

روبیو نے کہا ہے کہ اس گروپ کو صرف مسائل پر گفتگو کرنے والے فورم کے بجائے ان مسائل کے خلاف عملی اقدامات کرنے والے پلیٹ فارم میں تبدیل ہونا چاہیے۔

انہوں  نے اہم معدنیات کی فراہمی، بحری سیر سفر کی آزادی، انسانی امداد اور توانائی کے تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔

ایران کے معاملے پر اختلافات

آزادانہ بحری سیر سفرایک ایسا بنیادی تصّور ہے جو ایک  طویل عرصے سے واشنگٹن کی جانب سے چین کے سمندری دعوؤں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں  میں امریکہ نے اسی اصول کو آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کے حامل ملک 'ایران' کے خلاف اتحادیوں کو متحرک کرنے کے لیے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

اسرائیل کے علاوہ کسی بھی امریکی اتحادی نے ایران پر حملے کے فیصلے کی بھرپور حمایت نہیں کی۔ اس صورتحال نے یہ سوال پیدا کیا  ہےکہ صدر ٹرمپ نے حملے سے قبل اپنے اتحادیوں سے مشاورت کیوں نہیں کی، جس سے امریکہ کے شراکت داروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے۔

آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے کہا  ہےکہ ایشیا میں 'بگڑتے ہوئے اسٹریٹجک ماحول اور شدید معاشی دباؤ' کے باعث توجہ کے منتظر متعدد اہم معاملات موجود ہیں۔

جاپان اور بھارت تاریخی طور پر ایران کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے آئے ہیں، اگرچہ ماضی میں انہوں نے امریکی پابندیوں کے تحت ایرانی تیل کی درآمدات محدود کی تھیں۔

بھارت کی جانب سے اسٹریٹجک اعتماد کی اپیل

اجلاس میں بھارت کے وزیرِ خارجہ جے شنکر نے کہا ہے کہ سپلائی چین کی مضبوطی، رابطہ کاری کی رکاوٹوں، پیداوار اور وسائل کے ارتکاز، اور اہم بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔

جےشنکر نے کہا ہے کہ ہند-بحرالکاہل خطے کے خدشات دور کرنے کے لیے 'اسٹریٹجک اعتماد میں اضافہ'، بحری سلامتی کی یقین دہانی اور مزید گہرا تعاون ضروری ہے۔

پینی وونگ نے بھی کہا  ہےکہ ہند-بحرالکاہل کے ممالک کو اپنی سلامتی پالیسیوں اور خودمختار مفادات کے تحفظ میں 'آزادانہ انتخاب' کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

بھارتی حکام کے مطابق توانائی، بحری سلامتی اور علاقائی استحکام اجلاس کے اہم ایجنڈا نکات میں شامل تھے۔

امریکہ، آسٹریلیا، بھارت اور جاپان پر مشتمل کواڈ گروپ 2007 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا آخری سربراہی اجلاس 2024 میں امریکہ میں منعقد ہوا تھا۔

دریافت کیجیے
اسرائیل نے غزہ پولیس تھانے پر حملہ کر کے پانچ فلسطینی افسران کو قتل کر دیا
امریکہ اور ایران 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کے قریب
اسرائیل کا خوف: کہیں ٹرمپ ایک محدود ایران معاہدے پر راضی نہ ہو جائیں
کیف پر بیلسٹک میزائل حملے پانچ افراد زخمی
صدر اردوعان کی ٹرمپ اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی کانفرنس
معاہدہ طے پانے کو ہے: ٹرمپ
مشرق وسطی میں جنگی حالات کے باوجود امسال عازمین حج کی تعداد ڈیڑہ ملین سے تجاوز کر گئی
ترکیہ قومی خفیہ سروس کا شام میں آپریشن: داعش کے 10 کارندے ترکیہ لائے گئے
27 ممالک بحرانی فنڈز تک رسائی کو یقینی بنانے کی کوشش میں ہیں، رپورٹ
پاکستانی وزیر اعظم اسٹریٹیجک تعلقات کو مضبوطی دلانے کی غرض سے  چین کے دورے پر
روس کے زیر کنٹرول لوہانسک میں کالج اور ہاسٹل پر یوکرین کے حملے میں چار افراد ہلاک اور 35 زخمی: روس
ایتھنو اسپورٹس  فیسٹیول استنبول میں شروع ہو گیا
پاکستانی وزیر داخلہ کے امریکہ-ایران جنگ کے خاتمے کے لیے تجاویز پر تہران میں تازہ مذاکرات
نیٹو کے روٹے کا کہنا ہے کہ اتحاد مضبوط راہ پر ہے، ایک اتحادی پر زیادہ انحصار نہیں کرتا
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملہ،4 افراد ہلاک