سیاست
4 منٹ پڑھنے
وزیر خارجہ حاقان فیدان کی مشرق وسطی میں بھڑکنےو الی آگ کو بجھانے اور پائیدار امن کی اپیل
فیدان نے جمعہ کو انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں اپنی تقریر میں کیا  کہ"یہ ہماری مخلصانہ امید ہے کہ  قائم شدہ  جنگ بندی کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا اور یہ دیرپا امن کی ماہیت حاصل کر لے گا۔"
وزیر خارجہ حاقان فیدان کی مشرق وسطی میں بھڑکنےو الی آگ کو بجھانے اور پائیدار امن کی اپیل
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان انطالیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کی افتتاحی تقریب کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ / Reuters
16 گھنٹے قبل

ترک  وزیرِ خارجہ حاقان  فیدان نے خطے میں "جنگوں کے خاتمے" کی اہمیت پر زور دیا اور اُمید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو پائیدار امن میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

فیدان نے جمعہ کو انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں اپنی تقریر میں کیا  کہ"یہ ہماری مخلصانہ امید ہے کہ  قائم شدہ  جنگ بندی کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا اور یہ دیرپا امن کی ماہیت حاصل کر لے گا۔"

8 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان 14 روزہ جنگ بندی ہوئی تھی اور پاکستان واشنگٹن-تہران مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  اسوقت دنیا کو کثیرالجہتی خطرات کا سامنا ہے جو ہر روز ایک دوسرے کو تحریک دیتے ہیں،گزشتہ سال کے موضوع نے غزہ میں جاری نسل کشی اور اس کے عالمی اثرات کو مرکزی حیثیت دی تھی، اس سال کا موضوع ایران میں جنگ اور اس کے دنیا پر اثرات ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی نظام کو پہنچنے والے گہرے نقصانات اور کشیدگی کے تسلسل نے ہمارے خطے کو حالیہ تاریخ کی ایک سنگین آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اس  چیز  نے ایک بار پھر بھاری قیمت چُکاتے ہوئے سیکھایا ہے کہ جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ بلا شبہ، اس جنگ سے تاریخی اسباق اخذ کیے جانے چاہئیں۔

فیدان نے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی میں تعاون کرنے والوں، خاص طور پر پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف، کی تعریف کی اور کہا کہ جنگ کی بنیادی وجہ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسرائیل کی توسیع پسندی سے پیدا ہونے والے "براہِ راست" خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے، جس کا آغاز غزہ میں نسل کشی کے ساتھ ہوا تھا، فیدان نے "خطے اور اس کے باہر دونوں جگہ پائیدار امن کے خواہاں عالمی سربراہان" سے اپیل  کہ اسرائیل کو روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ روکنے کی کوششوں میں بین الاقوامی برادری نے ایک نادر اتفاقِ رائے کا مظاہرہ کیا ہے۔

"ہمیں اس قیمتی موقع کو مکالمے اور سفارتکاری کے حق میں استعمال کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ درحقیقت، انطالیہ ڈپلومیسی فورم کا بنیادی مقصد  یہی ہے کہ سفارتکاری کو دوبارہ کارآمد بنایا  جائے۔"

فیدان نے کہا کہ ہمارے نزدیک سفارتکاری آگ کو مزید پھیلنے سے پہلے بند کرنے کی خواہش ہے۔ یہ ٹوٹے ہوئے تعلقات کو صبر و تحمل سے جوڑنے کی صلاحیت ہے۔ یہ دشمنیوں کو جان لیوا بننے سے روکنے کی ہمت ہے۔ یہ مشترکہ مستقبل کے لیے کم از کم مشترکہ بنیاد کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کا فن ہے۔ دوسرے الفاظ میں، سفارتکاری کل کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔

فیدان نے کہا کہ مستقبل کی تشکیل دو بنیادی ستونوں پر منحصر ہے۔

پہلا ستون عالمی ادارتی اصلاحات ہے؛ اُن کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی حکمرانی کا نظام زیادہ جامع، شفاف اور جوابدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ کمزور اور تیزی سے غیر مقبول بننے والے ڈھانچے آج کے بحرانوں سے نمٹنے سے قاصر ہیں ،  غیر منصفانہ بین الاقوامی نظام محض تنازعات کو ملتوی اور گہرا کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امن کے عمل کو خلل ڈالنے والے عناصر کے ہاتھوں نہیں چھوڑا جانا چاہیے اور بین الاقوامی برادری کو مشترکہ اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری اٹھانی ہو گی۔

فیدان نے یہ بھی کہا کہ عالمی خوشحالی کو زیادہ منصفانہ طور پر تقسیم کیا جانا چاہیے اور خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت چند فریقوں کے ہاتھوں قابضیت کا نیا ذریعہ نہ بن جائے۔ انسانیت کو تکنیکی ترقی سے اجتماعی طور پر فائدہ پہنچنا چاہیے، تاکہ کوئی ملک یا خطہ پیچھے نہ رہے۔

خطے کے چیلنجز کی طرف  اشارہ کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ دوسرا ستون خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے حکمتِ عملی اقدامات اٹھانا ہے۔

انہوں نے روس-یوکرین جنگ، غزہ سے شام، لبنان اور ایران تک اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیاں، اور ہارن آف افریقہ اور سوڈان میں عدم استحکام کو بیک وقت بڑھتے ہوئے بحرانوں کی نشانیاں قرار دیا۔

فیدان نے کہا کہ ترکیہ اُن چند ممالک میں سے ہے جو اعتماد کی بنیاد پر تمام فریقوں سے بات کر سکتا ہے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے  کا اہل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ ان بحرانوں کے بوجھ اور نتائج کو گہرائی سے سمجھتا ہے اور خطے کے استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک پائیدار علاقائی نظام کے لیے خودمختاری اور سرحدی سالمیت کا احترام، نسلی، ثقافتی اور مسلکی تنوع کو اتحاد کا ذریعہ ماننا، مضبوط علاقائی سیکیورٹی تعاون، غیر ریاستی عناصر کے استعمال کا خاتمہ، اور فلسطین میں دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گہرے بحرانوں کے وقت اٹھائے گئے اقدامات ہی دیرپا امن اور استحکام کو ممکن بناتے ہیں۔