ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
علاقائی تنازعات عالمی بحران میں بدل سکتے ہیں:ترکیہ
ترک وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ پرامن حل تلاش کرنے کے لئے سفارتی کوششوں کی حمایت کرے، "ایران کے جوہری پروگرام پر تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا واحد راستہ ہے
علاقائی تنازعات عالمی بحران میں بدل سکتے ہیں:ترکیہ
/ AA
22 جون 2025

ترک وزارت خارجہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اس سے علاقائی تنازعہ عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 22 جون کو اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی حملے نے تنازعات میں اضافے اور سلامتی کے ماحول کو عدم استحکام سے دوچار کرنے جیسے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

انقرہ نے کہا کہ اسے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے آپریشن کے ممکنہ نتائج کے بارے میں "گہری تشویش" ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت علاقائی تنازعہ کو عالمی سطح پر لے جا سکتی ہے۔ ہم اس طرح کے تباہ کن منظر نامے کو سامنے نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

ترکیہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری سے کام کریں اور مزید ہلاکتوں اور تباہی سے بچنے کے لئے "فوری طور پر باہمی حملوں کو روکیں"۔

 وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ پرامن حل تلاش کرنے کے لئے سفارتی کوششوں کی حمایت کرے، "ایران کے جوہری پروگرام پر تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی امریکی جارحیت کی مذمت

انقرہ کی جانب سے یہ بیان امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری تنصیبات بشمول فوردو تنصیبات پر بنکر بسٹر بموں اور کروز میزائلوں کے ذریعے حملوں کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے تین جوہری تنصیبات پر "انتہائی کامیاب" فضائی حملے کیے ہیں۔

 امریکی حملوں کے بعد ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکی جارحیت کی مذمت کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد کرے۔

 13 جون کو اسرائیل نے ایران بھر میں فوجی اور جوہری تنصیبات سمیت متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے جس کے بعد تہران نے جوابی حملے کیے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اب تک ایرانی میزائل حملوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا ایرانی وزارت صحت کے مطابق، ایران میں اسرائیلی حملے میں 430 افراد ہلاک اور 3500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

دریافت کیجیے
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
جنگ بندی کے بعد روس-یوکرین جھڑپوں کی اطلاع
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
روس۔یوکرین ایسٹر فائربندی ختم ہو گئی
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں
ایران اور امریک اسلام آباد میں مذاکرات کے ختم ہونے سے قبل معاہدے کے بہت قریب تھے: عراقچی
ٹرمپ نے پوپ لیو پر بھی چڑھائی کر دی: مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیئے
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
ترکیہ: پانچواں انطالیہ ڈپلومیسی فورم عالمی رہنماوں کی میزبانی کے لئے تیار
ترک پراسیکیوٹروں نے نیتن یاہو کے خلاف فردِ جرم تیار کر لی
اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر