ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
علاقائی تنازعات عالمی بحران میں بدل سکتے ہیں:ترکیہ
ترک وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ پرامن حل تلاش کرنے کے لئے سفارتی کوششوں کی حمایت کرے، "ایران کے جوہری پروگرام پر تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا واحد راستہ ہے
علاقائی تنازعات عالمی بحران میں بدل سکتے ہیں:ترکیہ
/ AA

ترک وزارت خارجہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اس سے علاقائی تنازعہ عالمی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 22 جون کو اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری تنصیبات پر امریکی حملے نے تنازعات میں اضافے اور سلامتی کے ماحول کو عدم استحکام سے دوچار کرنے جیسے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

انقرہ نے کہا کہ اسے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے آپریشن کے ممکنہ نتائج کے بارے میں "گہری تشویش" ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت علاقائی تنازعہ کو عالمی سطح پر لے جا سکتی ہے۔ ہم اس طرح کے تباہ کن منظر نامے کو سامنے نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔

ترکیہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری سے کام کریں اور مزید ہلاکتوں اور تباہی سے بچنے کے لئے "فوری طور پر باہمی حملوں کو روکیں"۔

 وزارت خارجہ نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ پرامن حل تلاش کرنے کے لئے سفارتی کوششوں کی حمایت کرے، "ایران کے جوہری پروگرام پر تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی امریکی جارحیت کی مذمت

انقرہ کی جانب سے یہ بیان امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری تنصیبات بشمول فوردو تنصیبات پر بنکر بسٹر بموں اور کروز میزائلوں کے ذریعے حملوں کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے تین جوہری تنصیبات پر "انتہائی کامیاب" فضائی حملے کیے ہیں۔

 امریکی حملوں کے بعد ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکی جارحیت کی مذمت کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کا احتساب کرنے کے لیے ہنگامی اجلاس منعقد کرے۔

 13 جون کو اسرائیل نے ایران بھر میں فوجی اور جوہری تنصیبات سمیت متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے جس کے بعد تہران نے جوابی حملے کیے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اب تک ایرانی میزائل حملوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

دریں اثنا ایرانی وزارت صحت کے مطابق، ایران میں اسرائیلی حملے میں 430 افراد ہلاک اور 3500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

دریافت کیجیے
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع