امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ "ہم، سعودی عرب کو ایک "اہم، غیر نیٹو اتحادی" کی حیثیت دیتے ہیں"۔
ٹرمپ نے منگل کی شام سعودی ولی عہد کی طرف سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت کی اور اس موقع پر کہا ہے کہ "ہم سعودی عرب کوسرکاری سطح پر ایک اہم 'غیر نیٹو اتحادی' قرار دے کر اپنے باہمی فوجی تعاون میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ موضوع ہمارے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے"۔
یہ بیان، دونوں ممالک کے درمیان، ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ سعودی ذرائع ابلاغ نے اسے ، طویل المدتی دفاعی تعاون کو مضبوط کرنے والا اور خطے کے امن، سلامتی اور خوشحالی کے ساتھ شراکت داروں کی مشترکہ وابستگی کا عکاس ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق ولیعہد کے دورہ واشنگٹن کے دوران امریکہ اور سعودی عرب نے سول جوہری توانائی اور دفاع کے شعبوں میں بھی معاہدے کیے ہیں۔
امریکہ انتظامیہ نے کہا ہے کہ دونوں فریقین نے سول جوہری توانائی پر ایک "مشترکہ اعلامیے" کی منظوری دی ہے۔یہ اعلامیہ آئندہ دہائیوں میں اربوں ڈالر کے تعاون کے لئے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہےکہ یہ کام جوہری پھیلاؤ کے سدّباب قواعد کے مطابق انجام دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایسے اسلحہ معاہدے کی بھی منظوری دی جس میں ایف-35 لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں۔






