دنیا
3 منٹ پڑھنے
آبنائے ہرمز پر کسی بھی ریاست کا دعوی خودمختاری "بین الاقوامی قانون کے خلاف" ہے
آبنائے ہرمز پر کسی بھی ریاست کا خودمختاری یا کنٹرول کا دعوی "بین الاقوامی قانون کے خلاف" ہے: یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل
آبنائے ہرمز پر کسی بھی ریاست کا دعوی خودمختاری "بین الاقوامی قانون کے خلاف" ہے
یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیوں کو مسترد کر دیا۔ / Reuters

یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل نے آبنائے ہرمز پر کسی بھی ریاست کے خودمختاری یا کنٹرول کے دعوے کو "بین الاقوامی قانون کے خلاف" قرار دیا اوراس اہم آبی گزرگاہ سے بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لئے  اجازت نامے یا کسی بھی قسم کے معاوضےکی مخالفت کی ہے۔

برسلز میں منعقدہ علاقائی سلامتی و تعاون کے اعلیٰ سطحی فورم کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں دونوں تنظیموں نے کہا ہے کہ "ریاستوں کے درمیان کوئی بھی دوطرفہ انتظام، مفاہمت یا معاہدہ کسی بین الاقوامی آبنائے میں سیر و سفر کے حق کو غیر قانونی طور پر منظم یا محدود نہیں کر سکتا۔"

یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل نے اس بات پر زور دیا  ہےکہ بین الاقوامی قانون تمام ریاستوں کے لیے حقِ سیر و سفر کی ضمانت دیتا ہے اور یہ حق "کسی بھی ریاست کے کنٹرول یا اجازت سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔"

یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی' کاجا کالاس' اور بحرین کے وزیر خارجہ 'عبداللطیف بن راشد الزیانی' نے علاقائی سلامتی اور تعاون کے اعلیٰ سطحی فورم کی مشترکہ صدارت کی۔

دونوں تنظیموں نے اقوام متحدہ کے بحری قانون  کنونشن (UNCLOS) کے حوالے سے  ایک بار پھر اس بات کی توثیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز سمیت سب سمندروں میں آزادانہ جہاز رانی کا حق بین الاقوامی قانون کے تحت محفوظ ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "تمام ریاستوں کے جہاز ان حقوق سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور کوئی بھی ریاست ان حقوق کو معطل، محدود یا کسی بھی شرط سے مشروط نہیں کر سکتی۔"

سمندری جارحیت

یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور خطے کے بعض ممالک کی خودمختار سرزمین پر ایران کے حملوں کی "شدید ترین الفاظ میں" مذمت بھی کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "ان حملوں نے عام شہریوں اور سمندری عملے کی جانوں کو خطرے میں ڈالا، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر  2817 کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا انہیں کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔"

ایران سے مطالبہ کیا گیا  ہے کہ وہ "فوری اور غیر مشروط طور پر تمام حملے اور سمندری آمدورفت میں ہر قسم کی مداخلت بند کرے" اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط، ٹول ٹیکس یا سروس فیس کے ہر وقت کھلا رکھے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ "کسی بھی ریاست کی سلامتی پر حملہ ان تمام فریقوں کے لیے باعثِ تشویش ہے جن کی سلامتی اس اہم آبی گزرگاہ کے محفوظ رہنے سے وابستہ ہے۔"علاوہ ازیں   متاثرہ ممالک اور سمندری عملے کے ساتھ "مکمل یکجہتی" کا اظہار بھی کیا گیا۔

یورپی یونین اور خلیجی تعاون کونسل نے تمام فریقوں سے "تحمل اور بردباری" کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے حق کے تحفظ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری جاری رکھنے کے  عزم کا اعادہ کیا ہے۔

دریافت کیجیے
امن کی تلاش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے:شہباز شریف
مصر میں ایک شاپنگ مال میں دھماکے میں 3 افراد ہلاک، 17 زخمی
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
پولینڈ: 19 ملین افراد کی طبّی معلومات چوری ہو گئیں
ترکیہ: ،علی خان کوریش نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا آغاز
نارویجیئن وزیر  خارجہ کا دورہ پاکستان،اہم امور پر  تبادلہ خیال
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کا اسرائیلی دعوی مشکوک ہے:سی آئی اے
فرانس: ایران مظاہرین کو سزائے موت دینا بند کرے
انڈونیشیا: مسافر بردار کشتی میں آگ لگ گئی، ایک مسافر ہلاک
کولومبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:یسرائیل کاتز
گولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے:ترکیہ
آسٹریلیا: بونڈی بیچ دعوے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات جمع کر لئے گئے
زمبابوے میں مسافر فیری کے الٹنے سے کم  از کم 15 افراد ہلاک
بیجنگ نے موسلادھار بارشوں کے باعث بس سروسز معطل کر دیں، سیاحتی علاقوں کو بند کر دیا