اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے، اسرائیل کا نام لئے بغیر ، کہا ہے کہ اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی نام نہاد "جنگ بندی" کے بعد سے محصور غزہ میں کم از کم 300 بچے قتل کئے جا چکے ہیں۔
یونیسیف کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبیڈر نے کہا، "سیکڑوں دیگر بچے زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بہت سے شدید زخمی ہیں۔ غزہ کے بچے اب بھی اس تشدد کے خاتمے کے منتظر ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ "جنگ بندی" غزہ کے بچوں کو "ادھورا چھوڑ گئی ہے۔"
بیگبیڈر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں "جنگ بندی" کے اگلے مرحلے کے لیے پیش کیے گئے لائحۂ عمل کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "غزہ کے بچوں کے لیے اصل امتحان بہت سادہ ہے۔ کیا قتل و غارت بند ہوگی؟ کیا امداد ان تک مناسب مقدار میں پہنچے گی؟ کیا اسپتال دوبارہ کھلیں گے اور پانی کی فراہمی بحال ہوگی؟ کیا بچے ستمبر میں محفوظ طریقے سے اپنے اسکول واپس جا سکیں گے؟ بچوں نے اس سے پہلے بھی بہت سے وعدے سنے ہیں، لیکن اس بار ضروری ہے کہ طے پانے والے معاہدے عملی شکل اختیار کریں۔"
اسرائیل نے معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد سے غزہ جنگ بندی کی 3,795 سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی ہے اور 10 اکتوبر 2025 سے تقریباً روزانہ کیے جانے والے حملوں میں کم از کم 1,254 فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔
'انہیں بچوں کا تحفظ کرنا ہوگا'
یونیسیف نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ یکطرفہ جنگ بندی کی پابندی کریں، بچوں کا تحفظ یقینی بنائیں اور انہیں درکار امداد فراہم کریں۔ ادارے نے اپنے بیان میں کہا، "یونیسیف تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، بشمول بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں۔ انہیں بچوں کا تحفظ کرنا چاہیے، صحت کی سہولیات، تعلیم، محفوظ پانی اور خوراک سمیت بنیادی اشیا اور خدمات تک ان کی رسائی یقینی بنانی چاہیے، اور ضرورت مند بچوں تک محفوظ، فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کو ممکن اور آسان بنانا چاہیے۔"
اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اپنی نسل کشی کے دوران 73 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے، جن میں 20 ہزار سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار حقیقی تعداد سے کم ہیں اور ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے تقریباً تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔


















