دنیا
3 منٹ پڑھنے
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی نام نہاد "جنگ بندی" کے بعد سے محصور غزہ میں کم از کم 300 بچے قتل کئے جا چکے ہیں: یونیسف
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں 20,000 سے زائد بچوں اور شیر خواروں کو ہلاک کیا ہے۔ [فائل] / AA Archive

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے، اسرائیل کا نام لئے بغیر ، کہا ہے کہ اکتوبر 2025 میں نافذ ہونے والی نام نہاد "جنگ بندی" کے بعد سے محصور غزہ میں کم از کم 300 بچے قتل کئے جا چکے ہیں۔

یونیسیف کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبیڈر نے کہا، "سیکڑوں دیگر بچے زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے بہت سے شدید زخمی ہیں۔ غزہ کے بچے اب بھی اس تشدد کے خاتمے کے منتظر ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ "جنگ بندی" غزہ کے بچوں کو "ادھورا چھوڑ گئی ہے۔"

بیگبیڈر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں "جنگ بندی" کے اگلے مرحلے کے لیے پیش کیے گئے لائحۂ عمل کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "غزہ کے بچوں کے لیے اصل امتحان بہت سادہ ہے۔ کیا قتل و غارت بند ہوگی؟ کیا امداد ان تک مناسب مقدار میں پہنچے گی؟ کیا اسپتال دوبارہ کھلیں گے اور پانی کی فراہمی بحال ہوگی؟ کیا بچے ستمبر میں محفوظ طریقے سے اپنے اسکول واپس جا سکیں گے؟ بچوں نے اس سے پہلے بھی بہت سے وعدے سنے ہیں، لیکن اس بار ضروری ہے کہ طے پانے والے معاہدے عملی شکل اختیار کریں۔"

اسرائیل نے معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد سے غزہ جنگ بندی کی 3,795 سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی ہے اور 10 اکتوبر 2025 سے تقریباً روزانہ کیے جانے والے حملوں میں کم از کم 1,254 فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔

'انہیں بچوں کا تحفظ کرنا ہوگا'

یونیسیف نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ یکطرفہ جنگ بندی کی پابندی کریں، بچوں کا تحفظ یقینی بنائیں اور انہیں درکار امداد فراہم کریں۔ ادارے نے اپنے بیان میں کہا، "یونیسیف تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون، بشمول بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں۔ انہیں بچوں کا تحفظ کرنا چاہیے، صحت کی سہولیات، تعلیم، محفوظ پانی اور خوراک سمیت بنیادی اشیا اور خدمات تک ان کی رسائی یقینی بنانی چاہیے، اور ضرورت مند بچوں تک محفوظ، فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کو ممکن اور آسان بنانا چاہیے۔"

اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اپنی نسل کشی کے دوران 73 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے، جن میں 20 ہزار سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار حقیقی تعداد سے کم ہیں اور ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے تقریباً تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

دریافت کیجیے
امریکہ: چین کے ساتھ مذاکرات "بہت کامیاب" رہے ہیں
امریکہ نے یوکرین کے لیے  $2.68 بلین کے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی
چلی: سابق صدر نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی دوڑ سےنام واپس لے لیا
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
امریکہ کا منشیات کی ترسیل کرنے والے جہاز پر حملہ، 4 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"