28 فروری سے ایران کے خلاف جاری امریکہ۔اسرائیل جنگ اور نتیجتاً آبنائے ہُرمز کی بندش نے ایشیاء کے لئے توانائی کی ترسیل کو تقریباً صفر کر دیا ہے۔
جنگ کے آغاز میں اختیار کی گئی، بچت تدابیر اور توانائی کے ذخائر کا استعمال جیسی، حکمت علمی جنگ میں طوالت کے باعث ناکافی ثابت ہونے لگی ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے وہ حکومتیں جنہوں نے اپنے بجٹ 70 ڈالر فی بیرل کی بنیاد پر تیار کیے تھے اس مشکل انتخاب پر مجبور ہو گئی ہیں کہ یا تو عوامی مالیات پر دباؤ برداشت کریں یا پھر بڑھتی ہوئی لاگت کو صارفین پر منتقل کر دیں۔
اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق توانائی بحران کے باعث تقریباً 88 لاکھ افراد غربت کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں اورایشیا بحرالکاہل خطے کی معیشتوں کو 299 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔
بھارت، تھائی لینڈ، فلپائن اور ویتنام جیسے ممالک ایندھن کی پابندیوں، اوقاتِ کار میں تبدیلیوں اور ٹیکس معافی کے ذریعے بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے نقدی کی کمی کا شکار ممالک بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس بحران کے اثرات یورپ اور امریکہ میں بھی محسوس کئے جا رہے ہیں لیکن سب سے بڑا نقصان جنوب مشرقی ایشیا کو پہنچ رہاہے۔
ایسے میں کہ جب توانائی کے جھٹکے کے علاقائی معیشتوں کو ایک نئی شکل دینے کی توقع کی جا رہی ہے ممالک طویل مدتی حل کے طور پر توانائی فراہم کرنے والے ذرائع میں تنوع، جوہری توانائی، اور قابلِ تجدید توانائی کے وسائل کی طرف منتقلی کی حکمتِ عملیوں پر عمل شروع کر رہے ہیں۔











