ترکیہ نے 1915 کے واقعات کو تسلیم کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ایسا سیاسی اقدام قرار دیا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم پر پردہ ڈالنا ہے۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ 'پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے فلسطینی عوام پر منظم مظالم ڈھانے والی اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں غزہ کے عوام کے خلاف نسل کشی کے جرم میں مقدمے کا سامنا کرنے والی اسرائیلی حکومت، 1915 کے واقعات سے متعلق منظور کردہ سیاسی فیصلے کے ذریعے اپنے جرائم کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔'
وزارت نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ قانونی اور تاریخی حقائق کو نظر انداز کرتا ہے اور نیتن یاہو اور ان کے حامیوں پر موجود اُس دباؤ کی عکاسی کرتا ہے جو غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کے باعث بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد پیدا ہوا ہے۔
ترکیہ نے واضح کیا کہ وہ خطے میں 'اسرائیل کی توسیع پسندانہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں' کو ختم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گا، اور ساتھ ہی نیتن یاہو حکومت کو فلسطینی عوام سمیت شہریوں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کا جوابدہ بنانے کے لیے بھی کوششیں جاری رکھے گا۔
1915 کے واقعات کو نام نہاد نسل کشی تسلیم کیے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے ترکیہ ان واقعات کو ایک ایسا المیہ قرار دیتا ہے جس میں دونوں فریقین کا جانی نقصان ہوا تھا۔
انقرہ نے اب تک کئی بار یہ تجویز پیش کی ہے کہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ترکیہ اور آرمینیا کے مورخین اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیشن قائم کیا جائے۔
2014 میں اس وقت کے وزیر اعظم اور موجودہ صدر رجب طیب ایردوان نے 1915 کے واقعات میں جان کی بازی ہارنے والے آرمینیائی باشندوں کی حالیہ نسلوں سے تعزیت کا اظہار کیا تھا۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے 21 نومبر 2024 کو غزہ میں کیے جانے والے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
اس کے علاوہ، اسرائیل کو فلسطین کے خلاف اپنی جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔"

















